اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سی پیک ملک دشمنوں کو کھٹک رہا ہے، آج ملک میں ہونے والے حملوں کی بنیادی وجہ سی پیک ہے، چین یہ بات سمجھتا ہے کہ بہت سی قوتیں پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنا چاہتی ہیں لیکن ہم ان دشمن عناصر کے عزائم خاک میں ملائیں گے، دہشتگردوں کا نشانہ چینی اہلکار تھے، کوئی بھی چینی ہلاک ہو جاتا تو اس کا بہت برا اثر پڑتا۔
ہم نیوز کے پروگرام “ندیم ملک لائیو” میں میزبان ندیم ملک سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چین سے رابطہ ہوا، وہ بی ایل اے کے بارے میں جاننا چاہتے تھے، یہ وہ قوتیں ہیں جو ہمارے ملک میں استحکام نہیں دیکھنا چاہتیں، چینی قونصلیٹ پر حملے کے حوالے سے ابھی کچھ کہنا مناسب نہیں، خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے سپاہیوں نے جواں مردی کا مظاہرہ کیا اور ہمیں بڑے نقصان سے بچا لیا۔
انہوں نے بتایا کہ چین کو معلوم ہے کہ کون پاک چین دوستی کے خلاف ہے، چین کی طرف سے کسی قسم کا کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا گیا۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/105207/” position =”left”]
انہوں نے بتایا کہ بھارت کشمیر میں بےبس ہو چکا ہے، کشمیری نوجوان بھارتی بربریت کے خلاف کھڑے ہو رہے ہیں، ہم نے بھارت سے بات کرنے کا کہا لیکن انہوں نے مذاکرات سے راہ فرار اختیار کی، بھارت کو چاہیئے کہ تمام معاملات سے آنکھیں چرانے کے بجائے ان پر بیٹھ کر بات کرے۔
شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی پہلی ترجیح ہمسائے ممالک سے تعلقات میں بہتری لانا ہے، ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔
انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت تعلقات بہتر بنانے کے لیے انہوں نے اپنی جان کی پرواہ بھی نہیں کی۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئیٹس کی پنٹاگون نے نفی کی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان نے کیا کچھ کیا ہے، پاکستان کے تعاون کے بغیر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے ہیں، امریکہ کی ترجیحانت سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے۔
ملکی معیشت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا تجارتی خسارہ تاریخی تھا، اتنا خسارہ پہلے کبھی نہیں ہوا، بیرون ملک سے امداد ملنے کی توقع ہے۔
احتساب کے حوالے سے انپوں نے بتایا کہ جب نیت صاف ہو تبھی احتساب کا عمل بہتر ہو سکتا ہے، ہمارا مقصد سیاسی انتقام لینا نہیں، ہم نے کسی کا نام نہیں لیا بلکہ یہ کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیئے۔
