اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا تنویز نے کہا کہ مائنس ون فارمولہ تو اب بچے بچے کی زبان پر ہے، الیکشن ہوتے رہنے چاہیئے اور کسی کو بھی عہدے سے ہٹانے کا عمل شفاف ہونا چاہیئے۔
ہم نیوز کے پروگرام “نیوزلائن” میں میزبان ماریہ ذوالفقار سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم جس منسٹری کی بھی بریفنگ لیتے ہیں تو اس کے بعد اس کو سراہتے ہیں، ایسا تو نہیں کہ وہ ان کی پچھلے کچھ دنوں کی کارکردگی کو سراہتے ہیں بلکہ اس میں پچھلے پانچ سالوں کی کارکردگی شامل ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ تحریک انصاف کے لوگوں کے پرانے بیانات نکالے جائیں تو واضح ہو جائے گا کہ انہوں نے ہمیشہ یوٹرنز لیے ہیں، جن کو چور ڈاکو کہا کرتے تھے آج ان ہی کو ساتھ شامل کر لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے پاس ابھی بھی اسمبلی میں کوئی خاص اکثریت نہیں ہے اور ان کے اتحادیوں کا حال بھی سب کے سامنے ہی ہے، کیا عمران خان کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگ کرپٹ نہیں ہیں؟
احتساب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل بے شک پیپلز پارٹی سے شروع کریں لیکن یہ عمل شفاف ہونا چاہیئے اور سب کا ہونا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر کل میرا لیڈر بھی کرپشن مین پکڑا جاتا ہے تو ان کے ساتھ بھی یہی ہو گا، پھر مائنس ون ہو یا کچھ بھی ہو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ایم کیو ایم ک ساتھ اتحاد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ میں 6 سال پہلے بھی غلط کو غلط کہتا تھا اور آج بھی ایسا ہی کہتا ہوں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی نے کہا کہ ہمارے ملک میں سیاست شخصیت پر ہوتی ہے، نظریے پر نہیں۔
موروثی سیاست کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم ٹکٹوں پر لوگوں کو لائے تھے، باقی سیاسی جماعتیں ٹکٹوں پر لا کر اعلیٰ عہدے بھی دے دیتے ہیں، ہماری پارٹی جسے ٹھیک سمجھتی ہے اسے ہی ووٹ دیتی ہے۔
