اسلام آباد: وفاقی حکومت نے تحریک لبیک کے دھرنے کے دورا ن توڑ پھوڑ کر نے والے فتنہ پرور عناصر کیخلاف بھرپور کارروائی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ہم نیوز کے مطابق پولیس نے مشتعل مظاہرین کی نشاندہی کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی مدد مانگ لی ہے۔
ہم نیوز کو پولیس ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مشتعل افراد کی نشاندہی کے لیے سیف سٹی اتھارٹی کے کیمروں کی فوٹیجز پولیس کو دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے لاہور میں درج مقدمات کو پولیس سیل کر چکی ہے اور کوئی بھی ایف آئی آر سیل ہونے کے باعث منظر عام پر نہیں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب وزیرِ مملکت برائے مواصلات مراد سعید نے نیشنل ہائی ویز اور موٹرویز کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو کٹہرے میں لانے کا اعلان کر دیا۔
انہوں نے وزارت داخلہ سمیت وفاقی حکومت کے دیگر محکموں سے توڑ پھوڑ کرنے والے عناصر کی نشاندہی کیلئے معاونت مانگ لی۔
ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں بنائے جانے والی ویڈیوز اور تصاویر کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
مراد سعید نے کہا کہ آئین پاکستان پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے۔ احتجاج کی آڑ میں سرکاری و نجی املاک کے نقصان کی کسی طور اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاجی قیادت کی جانب سے ان شرپسندوں سے مکمل اعلان لاتعلقی خوش آئند ہے، دو روزہ احتجاج کے دوران ملک بھر میں نیشنل ہائی ویز کی قیمتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان املاک کی تعمیر و مرمت پر اربوں کے اخراجات اٹھیں گے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ احتجاج کا فائدہ اٹھا کر قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچانے والوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔ شرپسند عناصر کی نشاندہی کرکے انہیں کٹہرے میں لائیں گے۔
