کراچی کے مصروف تجارتی علاقے میں واقع گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔
آگ ایک دکان سے بھڑکی اور چند ہی لمحوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس افسوسناک سانحے میں اب تک 14 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 69 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
گل پلازہ میں پھنسے دکاندار سرفراز قادری کا ایک دردناک آخری آڈیو پیغام سامنے آیا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں:“چاروں طرف آگ ہے، میں پھنس چکا ہوں، میری جو بھی غلطی ہو معاف کر دینا۔”
آڈیو پیغام میں خواتین اور بچوں کی آہیں اور چیخ و پکار بھی سنی جا سکتی ہیں، جبکہ ایک شخص مسلسل استغفراللہ استغفراللہ پڑھتا ہوا سنائی دیتا ہے، جو صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتا ہے۔
چونتیس گھنٹے تک جاری رہنے والی شدید آتشزدگی کے بعد گل پلازہ مکمل طور پر کھنڈر بن چکا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں کولنگ کے عمل کے ساتھ ساتھ ملبے میں دبے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
کراچی ، پلازے میں لگی آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ، 60 افراد لاپتہ
سانحہ گل پلازہ نے نہ صرف دکانداروں بلکہ ان کے اہل خانہ، ملازمین اور خریداروں کو بھی گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ امدادی ادارے دن رات کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم متاثرہ خاندان تاحال اپنے پیاروں کی خبر کے منتظر ہیں۔
یہ آگ صرف ایک عمارت کو نہیں جلا گئی بلکہ کئی گھروں کے چراغ بھی گل کر گئی، اور شہر ایک اور المناک سانحے کا گواہ بن گیا۔
