حادثے میں ایف ڈبلیو او کے چار اہلکار بھی جاں بحق ہوگئے۔ میتیں ایف ڈبلیو او حکام کے حوالے
Author: محمد علی انجم
وفاقی حکومت حکومت کا دیوسائی میں سیاحت کے فروغ کیلئے بلین ٹری منصوبے کو آگے بڑھانے کا اعلان
سدپارہ جھیل کو مقامی افراد پریوں کا مسکن بھی کہتے ہیں ۔فطرت کے حسین رنگ سیاحوں کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں ۔ملک کے کونے کونے سے سیاح اس خوبصورت تفریحی مقام کا رخ کرتے ہیں ۔
جنت نظیر وادی، پرفضا مقام، بہتا پانی، پہاڑ اور ان پر چاندی جیسی برف،بلتستان کے ضلع گانچھے کی وادی ہوشے، خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔
سیاحت کے نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو گلگت بلتستان قدرتی مناظر سے مالا مال خطہ ہے۔ ہر سال بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ یہ خطہ اپنے بلند و بالا پہاڑوں ، ٹھاٹھیں مارتے دریاؤں، وسیع و عریض سرسبز میدانوں اور دلکش آبشاروں کی وجہ سے پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا رہتا ہے۔ سال رواں بھی بڑی تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا ہے۔ یہ غیرملکی سیاح بلند و بالا پہاڑوں پر مہم جوئی کی غرض سے آتے ہیں۔ ایک اندازے…
غیور اور محب وطن لوگوں کی سر زمین بلتستان میں ٹھنڈے پانیوں کے میٹھے چشمے ، کوہسار، نخلستان اور ٹھاٹھیں مارتے دریاؤں کی بے ہنگم آوازیں زندگی کو فطرت کے قریب تر کرتی ہیں۔ بلتستان کی کئی چھوٹی وادیاں ایسی ہیں جہاں زندگی ہمیشہ رقصاں رہتی ہے ، کچھ وادیاں آج بھی سیاحوں کی نظروں سے اوجھل ہیں، گو ان وادیوں کا دیومالائی حسن دیکھنے والے کو مسحور کر دیتا ہے لیکن نفسا نفسی کے باعث آج کا انسان گھر تک محدوو ہو کر رہ گیا ہے۔ بلتستان کے صدر مقام اسکردو کے دامن میں واقع شگری بالا اسکردو کے…
دیوسائی: دنیا کی بلند ترین سطع مرتفع دیوسائی، جہاں زندگی مسکراتی اور فضا گدگداتی ہے، قدرتی حسن ایسا کہ سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لے اور نظارے ایسے کہ پلک جھپکنے کو جی نہ چاہے۔ دیو سائی دو الفاظ دیو اور سائی کا مجموعہ ہے جن کے معنی ہیں دیوؤں کا سایہ، قدیم زمانے سے لوگوں کا اعتقاد ہے کہ اس میدان پر دیو بستے ہیں۔ گلگت بلتستان کے اضلاع اسکردو اور استور کے درمیان واقع دیو سائی سطح سمندر سے اوسطاً 4144 میٹر (13،500 فٹ ) کی بلندی پر واقع ہے اوراس کا رقبہ تقریبا 3000 مربع کلومیٹر…
اسکردو: کہتے ہیں اگر انسان ہمت کرے تو کچھ ناممکن نہیں ہوتا کیونکہ ہمت ہی انسان کی اصل طاقت ہے۔ ایسی ہی داستان ہے اسکردو کے نوجوان عباس آنند کی جو دیکھنے کی صلاحیت سے تو محروم ہے لیکن اپنی آواز کے جادو سے سارے جہاں کو اپنا گرویدہ بنا سکتا ہے۔ جی ہاں عباس آنند دلوں کو چھو جانے والی آواز کا مالک ہے اور گلوکاری کی تربیت حاصل کیے بغیر بھی خوب گاتا ہے۔ عباس پیدائشی طور پر نابینا ہے لیکن قدرت نے سریلی آواز سمیت اسے بہت سی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے۔ عباس جب اپنی سریلی…







