جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ہڑتال پر موجود وکلاء کو صلح کا مشورہ دے دیا ہے۔
پی آئی سی کو کل تک مکمل طور پر بحال کر دیا جائے گا
ڈاکٹرز انسانیت کی خدمت کرتے ہیں اور اسی احساس پر ڈاکٹروں نے کوئی ہڑتال نہیں کی بلکہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔
وکلاء آئین کے محافظ اور پر امن شہری ہیں، وہ ڈاکٹر عرفان کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے گئے تھے، درخواست گزار
معاملات کو صبر و تحمل کے ساتھ سلجھایا گیا اور شرپسندوں کی سازش ناکام ہوئی، عمران خان
ڈاکٹر زخمی وکلا کاعلاج نہیں کر رہے، حفیظ الرحمان چوہدری
فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حسان خان نیازی بھی پی آئی سی پر حملے میں شامل تھے
گرفتار وکلا کو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ہنگامہ آرائی میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی ہوگی، پولیس
پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر یاسمین راشد نے لاہور واقعے کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
وکلاء نے ڈاکٹروں اور دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا، اسپتال میں مریضوں کا علاج رک گیا، حکومتِ پنجاب اور وزیراعظم کا نوٹس








