عدالتی پالیسی سازی، مشاورت کے فقدان اور اہم فیصلوں کے طریقہ کار پر تحفظات، 8 ستمبر کی جوڈیشل کانفرنس میں جواب دینے کا مطالبہ
صدر سنیارٹی طے کرنے سے پہلے چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند تھے، خط میں موقف
26ویں ترمیم کیس فیصلے تک توسیع نہ کی جائے، خط میں موقف
عالمی ادارے کمزور ممالک کیلئے کاربن مارکیٹ کے ڈھانچے کو ازسر نو ترتیب دیں،پری بجٹ ڈائیلاگ میں اظہار خیال
ہمارے پاس ججز کم ہیں اور یہ تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے
جسٹس جمال مندوخیل اورجسٹس محمد علی مظہر کی شمولیت پر اعتراض، کمیٹی میں شامل ارکان اپنے کیے پر خود جج نہیں بن سکتے
کوئی آئینی سوال آئے تو ریگولر بینچ بھی سماعت کر سکتا ہے، عدالتی معاون حامد خان
بینچز کے اختیارات کا کیس عدالتی حکم کے باوجود مقرر کیوں نہ ہوا؟عدالت، غلطی سے ریگولر بنچ میں لگ گیا، رجسٹرار
جوڈیشل سلک روٹ سے ساؤتھ ایشین ممالک کو منسلک کیا جائے، سیمینار سے خطاب
جسٹس منصور علی شاہ نے انتظامی فائلوں پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا
جوڈیشل کمیشن اجلاس سے پہلے سینئر ترین جج نے سیکرٹری جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ دیا
26ویں آئینی ترمیم بھی کلائمیٹ فنانس جیسا بڑا مسئلہ ہے، جج سپریم کورٹ
آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ اقلیت اور ایگزیکٹو اکثریت میں ہے،رولز میکنگ کمیٹی کے سربراہ کو خط لکھ دیا
ہمارے سامنے جب بچہ پیش ہوتا ہے ہم سنتے نہیں،ایک جج کو کمرہ عدالت میں بچوں کو سننا ہو گا
آمرانہ دور میں اصل طاقت جج کا عہدے پر فائز رہنا نہیں آزادی کو قائم رکھنا ہے ،صدارتی ریفرنس میں اضافی نوٹ








