آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور مشرف کیس کے فیصلے پر تبادلہ خیال ہوا
وزارت دفاع کی جانب سے دائر نظرثانی کی اپیل 26 صفحات پر مشتمل ہے جس میں 28 قانونی نکات اٹھائے گئے ہیں
مسلم لیگ ن وہ فیصلہ کرے گی جو پاکستان اور ادارے کے حق میں ہوگا، ترجمان ن لیگ
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد حزب اختلاف کے کسی رہنما نے نہیں کہا کہ ہم قانون سازی میں رکاوٹ ڈالیں گے، ن لیگی رہنما
حکومت آرمی چیف کی تقرری، دوبارہ تعیناتی اور توسیع سے متعلق قانون میں چھ ماہ کے اندر ترمیم کرنے کا بیان حلفی جمع کرائے، چیف جسٹس
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے۔





