وزیر اعظم نے کہا کہ امن کے لیے ہم سب کوششیں کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ طالبان کے ساتھ ممکنہ ڈیل پر سب خوش ہیں اور امریکہ خطے میں پولیس مین کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔
زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان نے سفارتی سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں لیکن وہ کافی نہیں ہیں۔ پاکستان کو عوامی رائے کو بھی ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔
راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ امید ہے وزیر اعظم عمران خان کو بھی پتہ چل گیا ہو گا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کتنا مخلص ہے۔
جب ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں نشانہ بنایا تو وہ کوئی پیغام پہنچانے نہیں جا رہے تھے، مائیک پومپیو
مودی کو پاکستان کیخلاف سخت بیان نہیں دینا چاہیے تھا، امریکی صدر
مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے۔ تنازع کے حل میں دونوں ممالک کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ
افغانستان دہشت گردوں کی ہاورڈ یونیورسٹی ہے،جس کی وجہ سے سوویت یونین روس بنا، ٹرمپ
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کے فوری بعد روس کی خواہش سامنے آئی ہے۔
اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو مسئلہ کشمیر حل کرانے میں ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہوں۔ امریکی صدر
سفارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرکے بھارت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔
امیر قطر نے وزیر اعظم عمران خان کو ٹیلی فون کر کے پاک بھارت ثالثی کی پیشکش کی۔
کنگ عبداللہ ثانی نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اورپاک بھارت کیشدگی پراظہارتشویش کیا
وزیرخارجہ نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ترکی کی حکومت بھارتی جارحیت کی صورت میں پاکستان کی کھل کر حمایت کرے گی۔













