کپاس کے کاشتکار کو گزشہ سال غیر معمولی نقصان ہوا، کپاس کےکاشتکار دلبرداشتہ ہو چکے ہیں، چیئرمین کاٹن جنزرز فورم
جامعہ کراچی نے کپاس کی کامیاب تجرباتی کاشت کرلی
گزشتہ سال مون سون بارشیں اور سیلاب پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ قرار
جب تک بھارت مقبوضہ وادی پر قابض ہے تعلقات کی بحالی نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر
ملک میں موجود وسائل سے ہی ضروریات پوری کی جائیں، کابینہ ارکان
پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت2019 سے بند ہے
کاشتکار کم منافع اور سخت محنت کے باعث کپاس کے بجائے دوسری فصلوں کو اگانے پر مجبور
کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے ٹڈی دَل کے ممکنہ حملے کی اطلاع کے باوجود نوٹس نہیں لیا
سال 2019 میں بیج کی 20 کلو بوری کی قیمت 3100 روپے تھی۔
کپاس (کاٹن) کی بحالی سے کسان اور ٹیکسٹائل کے شعبے کو فائدہ پہنچے گا، وزیراعظم عمران خان کا خطاب
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی رپورٹ جاری کردی
گذشتہ سال کپاس کی فصل کو ٹڈی دل کے حملے سے کافی نقصان ہوا، اس سے ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کا خدشہ ہے
پاکستان میں رواں سال کپاس کی مجموعی پیداورا میں کمی کے سبب روئی کی قیمت میں تیزی کا رحجان دیکھا جا رہا ہے
’موجودہ مالی سال 2019۔20 کے دوران کپاس کی ڈیڑھ کروڑ کی نسبت صرف ایک کروڑ گانٹھوں کی پیداوار متوقع ہے۔‘
محکمہ زراعت پنجاب کی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ حالیہ بارشوں سے مجموعی طور پر 6لاکھ63ہزار1سو92 ایکڑ پرکاشت کی گئی مختلف فصلیں متاثر ہوئیں۔











