اسلام آباد: پاکستان میں افغان سفیر ڈاکٹرعمر زاخیلوال کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کے لیے طالبان سے مذاکرات ہی سب سے بہتر راستہ ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام ’بڑی بات‘ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مخالف ہونے اور پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید میں فرق کرنا ہو گا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی پاکستان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہیں لیکن وہ پاکستان مخالف نہیں، زلمے خلیل زاد ان کے دوست ہیں اورمیں نہیں سمجھتا کہ وہ پاکستان مخالف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں خود پاکستان پر تنقید کرتا ہوں لیکن میں پاکستان مخالف نہیں ہوں۔ پاکستان کے خلاف ہونا امن کے لیے نقصان دہ بات ہے۔
ڈاکٹرعمر زاخیلوال نے کہا کہ طالبان میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ اگرچہ وہ جنگ جاری رکھ سکتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں لیکن وہ اقتدار پر قابض نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں تب بھی وہ افغانستان پر حکومت نہیں کر سکیں گے کیونکہ اب افغانستان بہت تبدیل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا چلے جانا ہر افغانی کی خواہش ہے لیکن اس حوالے سے بہت سے خدشات ہیں۔ ہم ایسا افغانستان نہیں چاہتے جو نوے کی دہائی کی طرح بین الاقوامی دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہو۔
میزبان کے اس سوال پر کہ اگر غیرملکی افواج چلی جائیں تو کیا افغان فوج اس قابل ہے کہ طالبان کا مقابلہ کر سکے، ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ غیرملکی افواج امن کے نتیجے میں افغانستان سے جائیں۔ غیرملکی فوجیوں کی تعداد صرف 13 یا 14 ہزارہے جبکہ افغان فوج چار لاکھ پر مشتمل ہے جو کہ اصل جنگ لڑ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے خلوص پر ہمیں کوئی شک نہیں اور نہ ہی ان کے ارادوں پر کوئی شک ہے لیکن سیاستدانوں کو ان کے بیانوں سے نہیں جانچنا چاہیے بلکہ ان کی کارکردگی دیکھنی چاہیئے۔
انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک میں تباہی اور جنگ کا ماحول ہو تو منفی خیالات پیدا ہوتے ہیں اس لیے افغانستان میں بھی پاکستان کے بارے میں منفی نظریات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک ماحول عدم اعتماد اور شک کا بھی ہے۔
ڈاکٹرعمر زاخیلوال نے کہا کہ آج دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اس سے کہیں کم ہے جتنی ایک یا دو برس پہلے تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے بات چیت اور کوششیں کی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں افغان سفیر نے کہا کہ پاکستان سے خراب تعلقات کی قیمت پر بھارت سے قریب ہونا ایک اہم سوال ہے کیونکہ اگر افغانستان واقعی ایسا کرتا ہے تو اس کا مطلب ہو گا کہ ہم ایک پوری قوم کی عقل پر سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔
افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینے کے وزیراعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افغانستان کے لیے بڑی مدد ہو گی کہ وہ ہمارے ملک میں امن کے لیے متحرک کردار ادا کرے۔ جب امن آئے گا تو پناہ گزیں کی مرضٰ ہو گی، وہ چاہیں تو پاکستان کی شہریت حاصل کریں اور چاہیں تو اپنے ملک واپس چلے جائیں۔
محمود اچکزئی کے ایک بیان کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ بہت سے پشتونوں کے پاس دہری شہریت ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر پاکستانیوں کے پاس مغربی ممالک کی شہریت ہے تو اس میں کیا برائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں منطقی انداز میں سوچنا ہو گا، ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے افغانستان انڈیا سے قریبی تعلقات رکھ سکتا ہے تاہم پاکستان سے تعلقات کی قیمت پر ایسا نہیں ہو گا۔
افغان سفیر نے کہا کہ ہمیں بہت کھل کر بات کرنی چاہیئے، اگر پاکستان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو پاکستان کو حق ہے کہ وہ اس معاملے کو اٹھائے اور اس پر واضح جواب دینا افغانستان کی ذمہ داری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیکیورٹی یا خود مختاری کے خلاف بھارت سمیت کوئی بھی تیسرا ملک افغانستان کو استعمال نہیں کر سکتا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ افغانستان میں الیکشن کے بارے میں وقت آنے پر بتائیں گے کیونکہ ابھی اس پر کوئی بیان نہیں دینا چاہتے۔
