آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران سری لنکن کرکٹر بھانوکا راجاپکسا (Bhanuka Rajapaksa)کے ایک بیان نے نیا تنازع کھڑا کردیا ہے، جس میں انہوں نے بھارتی بیٹرز کے استعمال کیے جانے والے بلّوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پاکستان کا بھارت کیساتھ کھیلنے کا فیصلہ،شاہد آفریدی کا ردعمل آگیا
اتوار کو کولمبو میں کھیلے گئے میچ میں سری لنکا نے آئرلینڈ کو 20 رنز سے شکست دے کر اپنے ورلڈ کپ سفر کا کامیاب آغاز کیا، تاہم میچ کے بعد سامنے آنے والے راجاپکسا کے بیان نے میدان میں ہونے والی اس جیت سے زیادہ توجہ حاصل کرلی۔
میچ کے بعد نیوز وائر سے گفتگو کرتے ہوئے بھانوکا راجاپکسا نے دعویٰ کیا کہ بھارتی بیٹرز ایسے بلّے استعمال کررہے ہیں جو انہیں دیگر ٹیموں کے مقابلے میں غیر منصفانہ برتری فراہم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی کھلاڑیوں کے بلّے معیار کے لحاظ سے ان بہترین بلّوں سے بھی بہتر ہیں جو دیگر ٹیموں کو دستیاب ہوتے ہیں۔
“Indian players have bats that are far superior to the best bats we get. It feels as though a layer of rubber has been applied. I can’t imagine how that’s possible. These bats can’t even be bought by others — all players know this,” Bhanuka Rajapaksa said in an interview,… pic.twitter.com/RWaJGbaQ7F
— NewsWire 🇱🇰 (@NewsWireLK) February 9, 2026
راجاپکسا نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان بلّوں پر ربڑ کی کوئی تہہ چڑھائی گئی ہو، جس سے گیند کو زیادہ طاقت اور رفتار کے ساتھ ہٹ کرنا ممکن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے، کیونکہ ایسے بلّے عام کھلاڑیوں کے لیے خریدنا بھی ممکن نہیں۔
سری لنکن کرکٹر کا کہنا تھا کہ کرکٹ حلقوں میں اس بارے میں بات کی جاتی رہی ہے اور کئی کھلاڑی اس معاملے سے واقف ہیں، تاہم اس حوالے سے کبھی کھل کر گفتگو نہیں کی گئی۔
سری لنکا کو بڑا دھچکا ، ونندو ہسارانگا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے باہر ہو گئے
دلچسپ بات یہ ہے کہ بھانوکا راجاپکسا اس وقت سری لنکا کے ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں ہیں، اس کے باوجود ان کے بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ صارفین کی جانب سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور کرکٹ شائقین اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔
تاحال بھارتی ٹیم یا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی جانب سے ان دعوؤں پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا تو ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں اس پر مزید وضاحت سامنے آئے۔
