پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کے صاحبزادوں قاسم خان اور سلیمان خان کے پاکستان ویزا معاملے نے ایک بار پھر سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق دونوں برطانوی پاسپورٹ ہولڈرز کو ابھی تک ویزا جاری نہیں کیا گیا جبکہ معاملہ متعلقہ حکام کے پاس زیر غور بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں بھائیوں نے پاکستان آنے کے لیے ویزا درخواستیں جمع کروائی تھیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ درخواستوں میں بعض تکنیکی اور معلوماتی خامیاں موجود تھیں جنہیں درست کرنے کے لیے درخواست گزاروں سے رابطہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مطلوبہ معلومات مکمل طور پر فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے درخواستیں زیر التوا رہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ویزا درخواستوں کا حتمی فیصلہ اسلام آباد میں وزارت داخلہ کے متعلقہ شعبے کی منظوری سے مشروط ہوتا ہے، جس کے باعث پراسیس میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ ماضی میں بھی رپورٹس سامنے آ چکی ہیں کہ عمران خان کے صاحبزادے پاکستان آنے کے لیے ویزا منظوری کے منتظر رہے ہیں۔
دوسری جانب بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں بھائیوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ ان کے ویزے جان بوجھ کر روکے جا رہے ہیں تاکہ وہ اپنے والد سے ملاقات نہ کر سکیں، تاہم حکومتی سطح پر اس مؤقف کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ویزا پراسیسنگ کے معاملات حساس نوعیت کے ہوتے ہیں اور بعض کیسز میں سکیورٹی اور دستاویزی تصدیق کے مراحل کے باعث وقت لگ سکتا ہے۔
