پاکستان کے سابق فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹر ذاکر بٹ طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے علیل تھے اور لاہور کے ایک مقامی ہسپتال میں زیرِ علاج تھے جہاں وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی کرکٹ حلقوں میں گہرے رنج و غم کی فضا چھا گئی اور سابق کھلاڑیوں، شائقین اور مختلف شخصیات کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
1992 کا ورلڈ کپ فائنل کھیلنے والے معروف کرکٹر انتقال کر گئے
ذاکر بٹ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں ایک نمایاں نام سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی کارکردگی اور کھیل کے ساتھ وابستگی کے باعث کرکٹ کے میدان میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی وفات کو قومی کرکٹ کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ وہ نہ صرف ایک اچھے کھلاڑی تھے بلکہ نوجوان کرکٹرز کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی بنے رہے۔
ذرائع کے مطابق ذاکر بٹ کافی عرصے سے بیماری میں مبتلا تھے اور ان کا علاج لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں جاری تھا۔ اہلِ خانہ اور قریبی عزیز ان کی صحت یابی کے لیے دعاگو تھے، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے انتقال کی خبر نے ان کے چاہنے والوں کو غمزدہ کر دیا ہے۔
سینئر کرکٹر دل کا جان لیوا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے
سابق کرکٹرز اور کھیل سے وابستہ شخصیات نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ذاکر بٹ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ شائقینِ کرکٹ نے بھی ان کی کرکٹ کے لیے خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں ایک باصلاحیت اور مخلص کھلاڑی قرار دیا۔
واضح رہے کہ ذاکر بٹ نے پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں مجموعی طور پر 50 فرسٹ کلاس اور 4 لسٹ اے میچز کھیلے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے اہم مواقع پر نمایاں کارکردگی دکھائی اور اپنی محنت و لگن سے کرکٹ میں اپنا نام بنایا۔ ان کی کھیل سے وابستگی اور محنت نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک مثال سمجھی جاتی ہے۔
آسٹریلیا کے سابق کرکٹر کیتھ اسٹیک پول 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
ذاکر بٹ کی نمازِ جنازہ سے متعلق اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ان کے انتقال پر کرکٹ کمیونٹی اور مداحوں کی بڑی تعداد کی جانب سے دعائے مغفرت اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی جا رہی ہے۔
