بھارتی سیاستدان اور کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے پاکستان کے خلاف مستقل دشمنی پر مبنی پالیسی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکمت عملی سے خطے میں امن کے امکانات کمزور ہوئے ہیں اور یہ طویل مدت میں مفید ثابت نہیں ہو سکی۔
بھارتی اخبار میں شائع اپنے کالم میں ششی تھرور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی ایک مخصوص خطرہ ہے مگر پورے پاکستانی معاشرے کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کا رویہ شدت پسند عناصر کو مضبوط اور امن کے حامی طبقات کو کمزور کر سکتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ بھارت کو پاکستان کو مستقل طور پر شیطان بنا کر پیش کرنے کے بجائے ایسے ماحول کے قیام کی کوشش کرنی چاہیے جو خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دے سکے۔ ان کے مطابق مذاکرات اور سفارتی رابطے کو کمزوری سمجھنا ایک غلط سوچ ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کیلئے بات چیت ناگزیر ہے۔
ششی تھرور نے اپنے کالم میں سخت پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں بھی زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہوئیں اور اس سوچ سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان فاصلے مزید بڑھتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت میں ایک ایسا طبقہ سامنے آ رہا ہے جو پاکستان کے ساتھ مکالمے اور کشیدگی میں کمی کا حامی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ششی تھرور کا بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی سیاست میں پاکستان مخالف بیانیے پر اندرونی سطح پر بحث اور سوالات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا میں امن اور اقتصادی استحکام کیلئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تاہم موجودہ سیاسی حالات میں یہ عمل آسان نہیں ہوگا۔
