چین نے اسلام آباد میں واقع ایک امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں قومی سلامتی اور استحکام کے تحفظ کے لیے پاکستانی حکومت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا کہ چین اسلام آباد میں ہونے والے مہلک دھماکے اور اس کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر شدید صدمے کا شکار ہے۔ بیان میں ہلاک ہونے والوں کے لیے تعزیت اور زخمیوں اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
بیان کے مطابق چین ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتا ہے اور پاکستان میں عوام کے تحفظ، قومی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستانی حکومت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔
یہ حملہ جمعے کے روز ترلائی کے علاقے میں واقع امام بارگاہ قصرِ خدیجۃ الکبریٰ میں نماز جمعہ کے بعد ہوا، جس میں 30 سے زائد افراد جاں بحق اور 100 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کو امام بارگاہ کے مرکزی دروازے پر روکا گیا، جہاں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
واقعے کے بعد سامنے آنے والی فوٹیج اور تصاویر میں امام بارگاہ کے داخلی دروازے کے قریب لاشیں بکھری ہوئی دکھائی دیں، جبکہ عبادت گاہ کے اندر اور باہر زخمی افراد مدد کے لیے پکار رہے تھے۔
اس حملے پر ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جبکہ عالمی سطح پر بھی متعدد ممالک اور تنظیموں نے مذمت کی۔
دوسری جانب وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ حملے کے مرکزی منصوبہ ساز سمیت چار سہولت کاروں کو خیبر پختونخوا میں رات گئے کارروائیوں کے دوران گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق متعدد اداروں نے مشترکہ تحقیقات کے بعد کارروائیاں کیں اور علی الصبح تمام مرکزی کرداروں کو حراست میں لے لیا گیا۔
وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ افغان شہری تھا اور داعش سے منسلک تھا، جس نے افغانستان میں تربیت حاصل کی۔ کارروائیوں کے دوران خیبر پختونخوا پولیس کا ایک اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں اور بھارت کی جانب سے مالی معاونت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔
