اسلام آباد میں قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر حافظ طاہر محمود اشرفی نے علماء و مشائخ کے ہمراہ سانحہ ترلائی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے قیام کا بنیادی مقصد ہی پاکستان میں امن و استحکام کا قیام ہے۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ ترلائی نے پوری قوم کو غمزدہ کیا ہے، تاہم اس اندوہناک واقعے کے بعد جس طرح تمام مکاتبِ فکر اور مختلف مذاہب کے نمائندے زخمیوں کی عیادت کے لیے پمز ہسپتال پہنچے، وہ قومی اتحاد کی روشن مثال ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی زندگی میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ تمام مذاہب کے نمائندے ایک ساتھ زخمیوں کے پاس موجود تھے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ہمیں کوئی بھی کسی بھی سطح پر تقسیم نہیں کر سکتا۔
اسلام آباد دھماکے کا ماسٹر مائنڈ کالعدم داعش سے تعلق رکھتا ہے، وزیرداخلہ
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز جب وحشت اور درندگی نے اپنا چہرہ دکھایا تو بڑی تعداد میں شہری ہسپتالوں میں خون عطیہ کرنے پہنچے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی قوم دہشتگردی کے خلاف یکجا ہے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے سخت الفاظ میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جن ظالموں نے سجدہ کرنے والوں پر حملہ کیا، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پیغامِ پاکستان کے تحت تمام مشائخ اور علماء نے متفقہ فتویٰ دیا ہے کہ عبادت گاہوں پر حملہ کرنے والے اسلام کے دشمن ہیں اور دہشتگردوں کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی انسانیت سے۔ انہوں نے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، جنہیں کوئی فراموش نہیں کر سکتا، مگر آج پوری قوم سوال کر رہی ہے کہ ان قربانیوں کا یہ صلہ کیوں دیا جا رہا ہے۔
