سابق سینیٹر اور معروف سیاسی شخصیت سید فیصل رضا عابدی نے الزام عائد کیا ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں انہیں بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، جیل میں قید کروایا گیا اور مبینہ طور پر زہر دلوایا گیا، جس کے باعث وہ موت کے منہ سے واپس آئے۔
ٹوکیو میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج عمران خان خود جیل میں ہیں اور یہ سب مکافاتِ عمل کا نتیجہ ہے۔
فیصل رضا عابدی کا کہنا تھا کہ ان کے دل سے بددعا نکلی تھی کہ جو کچھ ان کے اور دیگرسیاسی مخالفین کے ساتھ کیا گیا، اللّٰہ تعالیٰ وہی سلوک کرنے والوں کے ساتھ کرے اورآج ہزاروں مظلوم لوگوں کی بددعاؤں کے نتیجے میں عمران خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
عمران خان کیخلاف توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستیں سماعت کے لیے مقرر
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ ذاتی انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے بلکہ حقائق قوم کے سامنے آنا ضروری سمجھتے ہیں تاکہ تاریخ درست انداز میں لکھی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت شدید سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، جس کے باعث معاشی، سماجی اور سفارتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ان کے مطابق ملک کو درپیش بحرانوں سے نکلنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہو چکا ہے اور اس عمل میں تحریک انصاف کو بھی شامل کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ ایک بڑی سیاسی جماعت ہے جسے نظر انداز کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
سابق سینیٹر کا کہنا تھا کہ عمران خان جو قانونی اور سیاسی سزائیں بھگتنی تھیں وہ بھگت چکے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ انہیں آزاد ہو کر دوبارہ سیاست میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے تاکہ سیاسی کشیدگی میں کمی آئے اور جمہوری عمل مضبوط ہو سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ کسی ایک جماعت یا رہنما کو دیوار سے لگانے سے نہ ملک کو فائدہ پہنچتا ہے اور نہ ہی جمہوریت کو تقویت ملتی ہے۔
آخر میں سید فیصل رضا عابدی نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ ذاتی اختلافات اور ماضی کی تلخیوں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں برداشت، مکالمے اور مفاہمت کا راستہ اپنائیں، کیونکہ پاکستان کا مستقبل سیاسی ہم آہنگی اور جمہوری تسلسل سے ہی وابستہ ہے۔
