کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (cda) نے پہلی عالمی جنگ سے متعلق یادگار کی منتقلی کے معاملے پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام یادگار کو گرانے کے لیے نہیں بلکہ اس کے تحفظ اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
سی ڈی اے کے مطابق مذکورہ یادگار کو ایک زیادہ موزوں، محفوظ اور عوام کی رسائی والے مقام پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ اس کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے بہتر انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل تحفظ کے اصولوں کے تحت کیا گیا ہے، نہ کہ اسے مسمار کرنے کے لیے۔

اتھارٹی نے بتایا کہ یادگار کو باقاعدہ کنزرویشن پروٹوکول کے تحت احتیاط سے الگ کیا گیا، جس میں اصل اینٹیں اور دیگر مواد محفوظ رکھے گئے ہیں تاکہ بعد ازاں اسی انداز میں دوبارہ تعمیر ممکن ہو سکے۔ سی ڈی اے کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ یادگار کی حالت خراب ہو چکی تھی، اس لیے اس کی منتقلی سے اسے بہتر تحفظ اور طویل المدتی دیکھ بھال فراہم کی جا سکے گی۔

سی ڈی اے کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ یہ یادگار محکمہ آثارِ قدیمہ کی باضابطہ ورثہ فہرست میں شامل نہیں تھی، اس کے باوجود متعلقہ محکمے سے مشاورت کی گئی اور تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے۔ مزید بتایا گیا کہ یادگار کے قانونی وارث کی باقاعدہ رضامندی بھی حاصل کی گئی، جس میں متوفی کے پڑپوتے نے حلف نامہ اور این او سی فراہم کیا۔
اتھارٹی کے مطابق سی ڈی اے کی نگرانی میں یادگار کو شمالی بائی پاس کے قریب رہارہ گاؤں کے قریب ایک محفوظ اور نمایاں راؤنڈ اباؤٹ پر دوبارہ نصب کیا جائے گا، جہاں عوام کو اس تک آسان رسائی حاصل ہوگی اور اسے مناسب احترام بھی مل سکے گا۔

سی ڈی اے نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے باعث تاریخی ڈھانچوں کی منتقلی دنیا بھر میں ایک تسلیم شدہ عمل ہے، جس کی مثالوں میں امریکا کا کیپ ہیٹرس لائٹ ہاؤس، لندن کا ماربل آرچ اور لندن برج کی بیرون ملک تعمیر نو شامل ہیں۔
ادارے کا کہنا ہے کہ یہ یادگار سب غلام علی کی پہلی عالمی جنگ میں بہادری اور ملٹری کراس کے اعزاز کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور اس کی تاریخی اہمیت برقرار رہے گی۔ سی ڈی اے نے ’’مسماری‘‘ کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو خبر نشر کرنے سے قبل حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے تاکہ گمراہ کن اطلاعات سے بچا جا سکے۔
