(عثمان خان) سابق انگلش کپتانوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو آئینہ دکھا دیا۔
عالمی کرکٹ اس وقت ایک سنگین بحران سے گزر رہی ہے، جہاں کھیل تیزی سے سیاست کی بھینٹ چڑھتا جا رہا ہے۔ سابق انگلش کپتان مائیکل اتھرٹن اور ناصر حسین نے ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے عالمی کرکٹ میں بڑھتی ہوئی سیاسی مداخلت پر آئی سی سی اور بی سی سی آئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
دونوں سابق کپتانوں نے کہا کہ بنگلا دیش کا ورلڈکپ اور پاکستان کے خلاف میچ نہ کھیلنا اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ کہ بین الاقوامی کرکٹ ایک بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔
مائیکل اتھرٹن نے کہا کہ کرکٹ کو دنیا کا دوسرا بڑا کھیل کہا جاتا ہے۔ اور اعداد و شمار اس کی تصدیق بھی کرتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس کھیل کی اصل روح اور دلچسپی جنوبی ایشیا میں پائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات یہ ہیں کہ بھارت پاکستان نہیں جاتا۔ پاکستان بھارت نہیں جاتا اور اب بنگلا دیش نے بھی بھارت جانے سے انکار کر دیا ہے۔ جس کے باعث عالمی ٹورنامنٹس بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
مائیکل اتھرٹن نے کہا کہ عالمی ایونٹس مخصوص مقامات تک محدود ہو چکے ہیں۔ اور اس کے منفی اثرات اب کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ دو بڑی ٹیموں کا ایک دوسرے کے خلاف نہ کھیلنا عالمی کرکٹ کے لیے نہایت افسوسناک اور خطرناک صورتحال ہے۔
ناصر حسین نے اس موقع پر کہا کہ کھیل اور سیاست ہمیشہ کسی نہ کسی حد تک جڑے رہے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود 2003 میں زمبابوے کے دورے پر نہیں جا سکے تھے۔ کیونکہ وہاں حکومتی مسائل تھے۔ تاہم اس وقت ایسے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے تھے۔ جبکہ اب یہ معمول بنتے جا رہے ہیں۔
ناصر حسین نے کہا کہ اب سیاست صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ کھلاڑی بھی اس تقسیم کا حصہ بن چکے ہیں۔ آج کھلاڑی ایک دوسرے سے ہاتھ نہیں ملاتے اور مشترکہ طور پر ٹرافیاں نہیں اٹھاتے۔ جبکہ کرکٹ جو کبھی ملکوں کو جوڑتی تھی، اب دوریاں پیدا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال اس وقت مزید بگڑی جب بنگلا دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے باہر کیا گیا۔
مائیکل اتھرٹن کے مطابق اس تمام بحران کی بنیاد اس وقت پڑی جب بھارت نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان جانے سے انکار کیا۔ اور بعد ازاں اسے دبئی میں کھیلنے کی خصوصی اجازت دی گئی، جو ماضی میں کسی اور ٹیم کو نہیں ملی۔
اتھرٹن نے کہا کہ اب جب بنگلا دیشی حکومت نے اپنی ٹیم کو بھارت جانے سے روکا ہے تو وہ بھی وہی سلوک چاہتی ہے۔ جو بھارت کو دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی کے فیصلے سے لے کر مستفیض الرحمان کے معاملے تک، یہ تمام واقعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ناصر حسین نے سوال اٹھایا کہ کیا آئی سی سی میں اتنی جرات ہے کہ اگر مستقبل میں بھارت کسی ٹورنامنٹ سے ایک ماہ قبل انکار کرے تو اسے ایونٹ سے باہر کر دیا جائے؟ تمام کرکٹ بورڈز صرف برابری کا سلوک چاہتے ہیں اور پاکستان اور بنگلا دیش کے ساتھ بھی بھارت جیسا ہی رویہ اپنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ طاقت اور پیسے کے ساتھ بڑی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اور اگر بار بار پاکستان اور بنگلا دیش کو دبایا گیا تو ان کی کرکٹ کو شدید نقصان پہنچے گا۔ جس کے نتیجے میں ماضی کے شاندار پاک بھارت مقابلے یکطرفہ ہونا شروع ہو جائیں گے، جیسا کہ اب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ناصر حسین نے فرنچائز کرکٹ میں سیاست کے بڑھتے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ اب انگلش ہنڈرڈ لیگ میں بھی بھارتی مالکان شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا یہ مالکان پاکستانی یا بنگلا دیشی کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں شامل کریں گے یا نہیں۔
مائیکل اتھرٹن نے بتایا کہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے مطابق ’دی ہنڈریڈ‘ ٹورنامنٹ سب کے لیے کھلا ہے، تاہم اصل امتحان ان فرنچائزز کا ہوگا جن کے مالکان بھارتی ہیں۔
ناصر حسین نے خبردار کیا کہ اگر پاکستانی کھلاڑی عالمی فرنچائز کرکٹ سے باہر رہے تو نقصان صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پورے کھیل کا ہوگا۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان کرکٹ ترقی کر رہی ہے اور انہیں خوشی ہے کہ پاکستان نے بنگلہ دیش کا ساتھ دیا۔
ناصر حسین کے مطابق کسی نہ کسی مرحلے پر کسی کو یہ کہنا ہوگا کہ سیاست کو ایک طرف رکھ کر کرکٹ کو ترجیح دی جائے۔ یہ وہ موڑ ہو سکتا ہے جہاں پاکستان، آئی سی سی یا بھارت پر مالی دباؤ ڈال سکے۔ کیونکہ پاک بھارت میچز دنیا کے سب سے زیادہ منافع بخش مقابلے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی میچ کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں نہیں، حکومت نے فیصلہ کرنا ہے، سلمان علی آغا
مائیکل اتھرٹن نے خبردار کیا کہ اگر پاک بھارت میچز نہیں ہوئے تو کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو گا۔ جس کا اثر آئندہ سائیکل کے میڈیا رائٹس پر پڑے گا، اور اس کا سب سے زیادہ نقصان ان غریب کرکٹ ممالک کو ہو گا۔ جن کے پاس انگلینڈ، آسٹریلیا اور بھارت جیسی مالی طاقت موجود نہیں۔
