فلپائن کے جنوبی علاقے میں واقع ایک ساحلی جزیرے میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اور سرکاری نیوز ایجنسی پی این اے کے مطابق آگ منگل اور بدھ کی درمیانی شب تقریباً رات 10 بجے بارنگائے لامیون (Barangay Lamion) میں بھڑکی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے بعد تیز ہواؤں نے شعلوں کو مزید بھڑکایا، جس کے باعث آگ تیزی سے گنجان آباد علاقے میں پھیل گئی۔ متاثرہ بستی میں مکانات زیادہ تر لکڑی اور ہلکے تعمیراتی سامان سے بنے ہوئے تھے اور پانی پر کھمبوں کے سہارے قائم تھے، جس کی وجہ سے آگ نے انتہائی تیزی سے تباہی مچائی۔
چار گھنٹے تک جاری رہنے والی اس آگ کے نتیجے میں کم از کم 1000 مکانات مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بلند شعلے پورے جزیرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں جبکہ لوگ جان بچانے کے لیے زمین اور سمندر کے راستے نقل مکانی پر مجبور ہیں۔
سندھ حکومت کا آتشزدگی سے متاثرہ تاجروں کی مالی مدد کا اعلان
ریسکیو حکام کے مطابق 5 ہزار سے زائد افراد کو بحفاظت نکال کر دو عارضی امدادی مراکز میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ بونگاؤ کی مقامی انتظامیہ نے بنگسامورو وزارتِ سماجی بہبود اور صوبائی حکومت کے تعاون سے فوری امدادی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ متاثرین کو خوراک، پانی اور بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔
بونگاؤ رورل ہیلتھ یونٹ کی طبی ٹیمیں بھی امدادی مراکز میں تعینات کر دی گئی ہیں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔ میونسپل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ آفس کے مطابق خوش قسمتی سے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متعدد لکڑی کے فٹ برج آگ کی نذر ہو گئے جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا رہا۔
پلازے میں آتشزدگی سے 1200 دکانیں جل گئیں ، وزیراعلیٰ سندھ کا تحقیقات کا حکم
فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کا اعلان بدھ کی صبح تقریباً 2 بجے کیا گیا۔ واقعے کی وجوہات جاننے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
