وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ 8 فروری کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور حکومت و پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہیں۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان برف پگھلنا شروع ہو چکی ہے اور معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن کے ساتھ روابط بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں جا کران سے ملاقات کرینگے۔
پاکستان ٹی20ورلڈکپ میں بھارت کے ساتھ کوئی میچ نہیں کھیلےگا،وزیراعظم
ان کے مطابق اس ملاقات کے لیے مرکزی کردار رانا ثناء اللہ نے ادا کیا ہے، جسے سیاسی ماحول میں مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جن متنازع معاملات پر بات کرتی ہے، وہ مل بیٹھ کر طے ہو سکتے ہیں اور حکومت ان امور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات میں ہی مضمر ہے اور تصادم سے کسی کو فائدہ نہیں ہوتا، ایک بار پھر واضح کیا کہ 8 فروری کے بعد بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ احتجاج کرنا پی ٹی آئی کا آئینی حق ہے تاہم حکومت اس بات کی اجازت نہیں دے گی کہ احتجاج کی آڑ میں دکانیں اور اسکول بند ہوں یا شہریوں کی روزمرہ زندگی متاثر ہو۔
وفاقی وزیر نے ڈی چوک کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے احتجاج سے ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کوئی بھی حکومت انتشار اور خلفشارکی اجازت نہیں دے سکتی اور نہ ہی کسی کو یہ حق دیا جا سکتا ہے کہ وہ احتجاج کے نام پر شہریوں کے آئینی حقوق سلب کرے۔
