سابق انگلش کرکٹر مارک بچر(mark butcher) نے پاکستان کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان نے اس بار غیر معمولی اور زبردست قدم اٹھایا ہے۔
پاکستان ٹی20ورلڈکپ میں بھارت کے ساتھ کوئی میچ نہیں کھیلےگا،وزیراعظم
ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت میچ کرکٹ کی دنیا کا سب سے زیادہ منافع کمانے والا مقابلہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آئی سی سی ہر بڑے ایونٹ میں اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بھارت اور پاکستان ایک ہی گروپ میں ہوں۔
مارک بچر نےمزید کہا کہ پاکستان اور بھارت کا ایک گروپ میں ہونا اب ایک طے شدہ فارمولا بن چکا ہے، جبکہ باقی ٹیموں کے لیے ضابطوں اور قوانین کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی میں بھی بھارت کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، جس کے باعث دیگر ٹیموں کے میچز اور شیڈول متاثر ہوئے، تاہم یہی سہولت بنگلہ دیش کو نہیں دی گئی۔
بھارت نے افغانستان کو شکست دیکر انڈر19 ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنا لی
سابق انگلش کرکٹر کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے معاملات میں بھارت ہمیشہ اپنی مرضی چلاتا آیا ہے اور پاکستان کو اکثر یہ صورتحال برداشت کرنا پڑتی رہی ہے، لیکن اس بار پاکستان نے روایتی دباؤ کو قبول کرنے کے بجائے ایک مضبوط اور واضح مؤقف اپنایا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے اپنے پاس موجود واحد مؤثر ذریعہ استعمال کیا ہے۔
مارک بچر نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف نہ کھیلنے کا اعلان آئی سی سی اور بی سی سی آئی دونوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی کرکٹ میں پاک بھارت مقابلے کی غیر معمولی اہمیت کے باعث یہ فیصلہ نہ صرف مالی طور پر بلکہ انتظامی سطح پر بھی بڑا اثر ڈال سکتا ہے۔
کیا ورلڈ کپ کے اگلے مراحل میں بھی پاکستان بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کریگا؟
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا یہ اقدام دراصل آئی سی سی اور بی سی سی آئی پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہے، کیونکہ ماضی میں پاکستان کے خدشات اور تحفظات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔ مارک بچر کے مطابق اس فیصلے کے بعد عالمی کرکٹ اداروں کو پاکستان کے مؤقف کو سنجیدگی سے لینا پڑے گا اور مستقبل میں فیصلوں کے دوران تمام ٹیموں کے ساتھ یکساں سلوک یقینی بنانا ہوگا۔
