اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ پارٹی علیمہ خان کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے۔ اور ان کا ہر بیان متنازعہ ہوتا ہے۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ہم نیوز کے پروگرام “فیصلہ آپ کا” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے علیمہ خان کو جیل کے باہر بیان دینے سے منع کر رکھا ہے۔ لیکن وہ بار بار اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتی ہیں اور ان کا ہر بیان متنازعہ بن جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں میں صرف اس وقت شرکت کرتے ہیں جب اجلاس پارلیمنٹ کے اندر ہوں۔ جبکہ پارلیمنٹ کے باہر ہونے والے پارٹی اجلاسوں میں شریک نہیں ہوتے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 8 فروری کو صوبہ بند کرنے کی کال نہیں دی۔ کیونکہ صوبہ ایک بٹن سے بند نہیں کیا جا سکتا۔ پارٹی نے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کی کال دی ہے۔ تاہم قیادت نے اس حوالے سے عملی اقدامات نہیں کیے۔
انہوں نے کہا کہ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کے لیے نہ تاجروں سے رابطہ کیا گیا۔ اور نہ ہی ٹرانسپورٹرز سے کوئی بات ہوئی۔
شیر افضل مروت نے قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض بیانات ایسی رعونت سے دیئے جاتے ہیں۔ جیسے پارٹی عہدیدار کوئی نوکر ہوں۔ اگلا حکم شاید یہ ہو کہ سانس لینا بھی بند کر دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بہادرآباد میں سب سے بڑی ڈکیتی، ڈاکو 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ ڈالر لے گئے
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا کیا قصور ہے کہ صرف اسی صوبے کو بند کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ پارٹی کو تقویت دینے والی واحد چیز عمران خان کی رہائی کے لیے بھرپور احتجاجی تحریک ہے۔ جو پورے ملک کے عوام اور پارٹی کارکنوں کی شرکت سے ہی مؤثر ہو سکتی ہے۔
