ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر ریئر ایڈمرل علی شمخانی نے کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا معاملہ ’مکمل طور پر خارج از امکان‘ ہے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق عرب میڈیا کو انٹرویو میں علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت جنگ کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، اس تیاری کا مطلب تصادم کی خواہش نہیں بلکہ دشمنوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور دباؤ کا جواب ہے۔
ایران نے امریکا کو مذاکرات ترکیہ سے عمان منتقل کرنے پر رضامند کر لیا
علی شمخانی نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے پر اور صرف امریکا کے ساتھ ممکن ہیں، بشرطیکہ 2 بنیادی شرائط پوری کی جائیں جو دھمکیوں کا خاتمہ اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبات سے دستبرداری ہیں۔
علی شمخانی نے کہا کہ اگر خدشات برقرار رہتے ہیں تو ایران ملک کے اندر ہی یورینیم افزودگی کی سطح 60 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد تک لانے پر غور کر سکتا ہے لیکن یہ اقدام صرف ٹھوس سیاسی اور معاشی معاوضے کے بدلے ممکن ہو گا۔
ایران مڈ نائٹ ہیمرجیسا آپریشن دوبارہ نہیں چاہے گا، امید ہے مذاکرات کامیاب ہوں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
شمخانی نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی تصادم کی صورت میں جنگ ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی، امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران جواب میں یقینی طور پر اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔
