بھارت میں مہلک نیپا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
بھارتی ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے کم از کم 5 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حکام نے احتیاطی تدابیر کے تحت 100 افراد کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے۔
نیپا وائرس ایک خطرناک متعدی بیماری ہے جو سانس کی شدید تکالیف اور جان لیوا دماغی سوزش (انسیفلائٹس) کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے، جب کہ انسان سے انسان میں منتقلی بھی ممکن ہے۔
صورتحال کے پیش نظر بھارت کے ہمسایہ ممالک نے بھی حفاظتی اقدامات بڑھا دیے ہیں۔ تھائی لینڈ، نیپال اور تائیوان سمیت کئی ممالک میں خاص طور پر ایئرپورٹس پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے تاکہ ممکنہ پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق نیپا وائرس کے لیے تاحال کوئی مخصوص علاج یا ویکسین دستیاب نہیں، جب کہ مریضوں کو صرف معاون طبی سہولتیں (Supportive Care) فراہم کی جاتی ہیں۔
نیپا وائرس کی علامات
بخار، سر درد، جسم میں درد، گلے میں درد، قے، چکر آنا، غنودگی، ذہنی الجھن یا بے ہوشی، دماغی کیفیت میں تبدیلی، دورے (Seizures)، دماغ کی سوزش (Encephalitis، کوما (شدید کیسز میں 24 سے 48 گھنٹوں کے اندر)، اورسانس لینے میں دشواری۔
نیپا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جس کی بڑی وجہ متاثرہ چمگادڑوں سے انسانی رابطہ یا ان کی آلودہ خوراک کا استعمال ہے۔
یہ انسان سے انسان میں جسمانی رطوبتوں یعنی لعاب، پیشاب، خون، اور سانس کی رطوبت کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔
اس کا علاج کیا ہے؟
نیپا وائرس کا کوئی مخصوص علاج یا ویکسین موجود نہیں، مریضوں کو صرف علامات کے مطابق طبی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔
