اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ نے بیوروکریٹس کی دوہری شہریت پر پابندی عائد کرنے کے بل کو غیر رسمی طور پر منظور کر لیا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین قائمہ کمیٹی نور عالم خان کی زیرصدارت ہوا۔ بتایا گیا کہ وزارت کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد 16 جنوری کو بل پر باقاعدہ ووٹنگ کروائی جائے گی۔
خصوصی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم نے بیوروکریٹس کی دوہری شہریت کے معاملے کو سیکرٹری کمیٹی کے سپرد کر دیا ہے۔ جبکہ حال ہی میں سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔ جو بیوروکریٹس کی غیر ملکی شہریت کے حوالے سے پالیسی مرتب کر رہی ہے۔
سیکرٹری کابینہ کامران علی افضل نے اجلاس میں تجویز دی۔ کہ دوہری شہریت پر پابندی کے دائرہ کار میں ججز کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود دوہری شہریت کے حامل نہیں ہیں۔ تاہم یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کوئی پیدائشی طور پر دوہری شہریت رکھتا ہو تو کیا اسے اپنی شہریت چھوڑنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی نور عالم خان نے اجلاس میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم قانون ساز ہیں۔ محض کاغذوں پر دستخط کرنے والے نہیں۔ اگرچہ ارکان اسمبلی کے پاس ریاستی راز نہیں ہوتے۔ لیکن بیوروکریسی کے پاس اہم قومی راز ہوتے ہیں۔
نور عالم خان نے کہا کہ دوہری شہریت رکھنے والے بیوروکریٹس کو شرم آنی چاہیے۔ اور ایسے افسران ملک کے ساتھ غداری کے مترادف عمل کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں ہائی رائز عمارتوں کا ابتدائی سروے مکمل، تشویشناک انکشافات
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی بیوروکریسی ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتی ہے۔ اور متعدد افسران گریڈ 22 تک پہنچ چکے ہیں۔ جبکہ وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں بیوروکریٹس کی دوہری شہریت پر پابندی کی سفارش کی تھی۔ قائمہ کمیٹی نے معاملے پر مزید غور کے بعد وزارت کی حتمی رپورٹ آنے پر بل کو ووٹنگ کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
