کافی کا ایک کپ دن کی شروعات کا لازمی جز سمجھا جاتا ہے، مگر ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ معمولی عادت آپ کی ادویات کی تاثیر پر غیر متوقع انداز میں اثر ڈال سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق چاہے یہ سردی اور فلو کی دوائیں، تھائیرائیڈ ہارمون کی سپلیمنٹس، دل کی دوائیں یا ذہنی صحت کی ادویات ہوں، کافی کے ساتھ لینا ان کے اثر کو کم یا سائیڈ ایفیکٹس کو بڑھا سکتا ہے۔
کافی میں موجود کیفین جسم میں مختلف طریقوں سے ادویات کے ساتھ تعامل کرتی ہے، جس سے دواؤں کی تاثیر متاثر ہو سکتی ہے۔
ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کا آسان اور قدرتی طریقہ
1) سردی اور فلو کی دوائیں:
کافی میں کیفین اعصاب کے نظام کو متحرک کرتی ہے، جبکہ کچھ سردی اور فلو کی دوائیں بھی اسی طرح کام کرتی ہیں۔ دونوں ایک ساتھ لینے سے دل کی دھڑکن تیز ہونا، بے چینی، نیند نہ آنا اور سر درد جیسے مسائل بڑھ سکتے ہیں۔
2) تھائیرائیڈ کی دوائیں:
تھائیرائیڈ کی کمی کو پورا کرنے والی دوائیں جیسے لیوو تھائروکسین (Levothyroxine) کافی کے اثر سے مکمل طور پر جذب نہیں ہو پاتیں، جس سے دوا کا مطلوبہ اثر کم ہو سکتا ہے۔
3) ذہنی صحت کی ادویات:
کافی اور اینٹی ڈپریسنٹس کی ادویات کو ایک ساتھ لینے سے دوا کے جذب اور اثر پر فرق پڑ سکتا ہے۔
4) درد دور کرنے والی دوائیں:
پین کلرز جیسے اسپرین یا پیراسیٹامول میں کیفین پہلے سے شامل ہو سکتی ہے، کافی کے ساتھ لینے سے معدے میں جلن یا خون بہنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
5) دل کی دوائیں:
کافی عارضی طور پر بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن بڑھا سکتی ہے، جس سے دل یا بلڈ پریشر کی دوائیں اپنے مطلوبہ اثر میں کمی کر سکتی ہیں۔
پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینے کے حیرت انگیز اور خطرناک نقصانات
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر آپ کو نہیں معلوم کہ کافی اور آپ کی دوائیں ایک ساتھ کس طرح اثر ڈالیں گی تو اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔ اس طرح آپ روزمرہ کی کافی کا لطف بغیر کسی نقصان کے جاری رکھ سکتے ہیں۔
