سڑکوں پر بھیک مانگنے والا ایک بھارتی شخص درحقیقت کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک نکلا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے سرافہ علاقے میں طویل عرصے سے بھیک مانگنے والا مانگی لال، خواتین و بچوں کی ترقی کے محکمہ کی بھیک مٹاؤ مہم کے دوران بے نقاب ہوا۔
ناسا کا نیا منصوبہ: چاند کے سفر میں عام افراد کی شمولیت، طریقہ کار جانیں
کارروائی کے دوران معلوم ہوا کہ مانگی لال روزانہ 500 سے 1000 روپے بھیک سے کماتا تھا اور اس رقم کو مقامی تاجروں کو سود پر قرض دینے میں استعمال کرتا تھا، جبکہ روزانہ سود وصول کرنے کے لیے سرافہ علاقے آتا تھا۔
ریسکیو ٹیم کے نوڈل افسر دنیش مشرا کے مطابق مانگی لال کے پاس شہر کے مختلف علاقوں میں تین پکے مکانات ہیں، جن میں بھگت سنگھ نگر کا تین منزلہ مکان، شیونگر کا دوسرا گھر اور الوَاس گاؤں میں حکومت کی جانب سے دیا گیا ایک ون بی ایچ کے مکان شامل ہے۔
اس کے علاوہ، مانگی لال کے پاس تین آٹو رکشے ہیں جو کرائے پر چلتے ہیں، جبکہ ایک ڈیزائر کار کے لیے اس نے ڈرائیور بھی رکھا ہوا ہے۔ وہ الوَاس میں اپنے والدین کے ساتھ رہتا ہے۔
واضح رہے کہ محکمہ خواتین و بچوں کی ترقی نے فروری 2024 سے اندور میں بھیک مٹاؤ مہم شروع کی، جس کے تحت 6,500 بھکاریوں کی نشاندہی کی گئی، 4,500 افراد کی کونسلنگ کی گئی، 1,600 کو اججین کے سیوا دھام آشرم منتقل کیا گیا اور 172 بچوں کو اسکولوں میں داخل کرایا گیا۔
بابا وانگا کی اسمارٹ فونز سے متعلق دہائیوں پرانی پیشگوئی نے سب کو چونکا دیا
انتظامیہ کے مطابق بھیک مانگنے اور اس عمل کو فروغ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
