ہائی بلڈ پریشر کو عام طور پر خاموش قاتل کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بغیر کسی واضح علامات کے دل، دماغ، گردے اور خون کی نالیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے، دنیا بھر میں لاکھوں افراد روزانہ دوائیں لیتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوائیوں کے ساتھ طرزِ زندگی میں تبدیلی بھی ہائی بلڈ پریشر کے مؤثر کنٹرول میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تحقیقات کے مطابق باقاعدہ ورزش اور وٹامن سی کا استعمال بلڈ پریشر کو مؤثر طریقے سے کم کر سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف بلڈ پریشر میں کمی دیکھی گئی بلکہ جسم میں سوزش اور دیگر اندرونی نقصانات بھی کم ہوئے۔
ہارٹ اٹیک کی ابتدائی علامات، جو چند ہفتے پہلے ظاہر ہو جاتی ہیں
ماہرین کے مطابق ورزش اور وٹامن سی کے فوائد میں ہارمونز کی سطح میں بہتری، سوزش میں کمی، اور شریانوں کا لچکدار ہونا شامل ہیں، جو ہائی بلڈ پریشر کے بڑھنے کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
ورزش، چاہے ہلکی ہو یا درمیانی شدت کی ورزش، خون کی نالیوں کو آرام دیتی ہے، خون کی روانی بہتر کرتی ہے اور ذہنی تناؤ کم کرتی ہے۔ یہ وزن کو کنٹرول میں رکھنے میں بھی مددگار ہے، جو ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو کم کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔
وٹامن سی ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہے جو خون کی نالیوں کے اندرونی نقصان کو کم کرتا ہے اور نیٹرک آکسائیڈ کی پیداوار بڑھاتا ہے، جس سے نالیاں کشادہ ہوتی ہیں اور بلڈ پریشر نیچے آتا ہے۔
پھیپھڑوں کے کینسر کی ابتدائی علامات پیروں میں بھی ظاہر ہو سکتی ہیں، ماہرین کی وارننگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ دوائیوں کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے، لیکن ہائی بلڈ پریشر پر قابو پانے کے لئے صرف دوائیوں پر انحصار کرنا کافی نہیں ہے۔ ورزش اور متوازن غذائیت کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے سے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
