پاکستانی شوبز انڈسٹری سے وابستہ میزبان اور کامیڈین تابش ہاشمی نے کہا ہے کہ کراچی کو پرائیوٹائز کر دیا جائے، ہم سب مل کر اسے خرید لیں گے اور بہتر انداز میں چلائیں گے۔
تابش ہاشمی نے حالیہ ایک انٹرویو میں کراچی کے سانحہ گل پلازہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں گل پلازہ سے خریدی گئی کوئی چیز موجود نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ بچپن سے لے کر جوانی اور اب پختہ عمر تک، کراچی سے جڑی جو یادیں اور ایسوسی ایشنز تھیں، وہ ایک ایک کر کے ختم ہوتی جا رہی ہیں۔
کین ڈول کے مریم نواز کے فیشن پر تبصرے نے انٹرنیٹ پر ہنگامہ برپا کر دیا
گفتگو کے دوران تابش ہاشمی نے ایک طنزیہ مگر سنجیدہ تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح حکومت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ وہ پی آئی اے چلانے میں ناکام رہی اور اسے نجکاری کی جانب لے جایا گیا، اسی طرح اگر کراچی کو بھی پرائیوٹائز کر دیا جائے تو شاید حالات بہتر ہو جائیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کے پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر اور پنجابی، سب مل کر اس شہر کو سنبھال سکتے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں پورا یقین ہے کہ شہری مل کر اس شہر کو اس سے کہیں بہتر انداز میں چلا سکتے ہیں، کیونکہ موجودہ طرزِ حکمرانی سے بدتر انتظام شاید ممکن ہی نہیں۔
View this post on Instagram
تابش ہاشمی نے وزیراعلیٰ سندھ کی حالیہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محض یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم جوابدہ ہیں، اصل امتحان عمل کا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں یہ پہلا حادثہ نہیں، اس سے پہلے بھی آگ لگنے کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں اور کئی معصوم بچے ڈمپروں کے نیچے آ کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
سانحۂ گل پلازہ پر شوبز شخصیات کا دکھ کا اظہار
انہوں نے مزید کہا کہ اگر وزیراعلیٰ واقعی خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ اس کی عملی قیمت کیا ادا کی گئی؟ کیا کسی عہدے سے استعفیٰ دیا گیا؟ کیا کسی کی تنخواہ میں کٹوتی ہوئی؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ متاثرین کو دیے جانے والے ہرجانے حکمران اپنی جیب سے نہیں بلکہ سرکاری خزانے سے ادا کرتے ہیں۔
