اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 19 نئی یہودی بستیوں کے قیام کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد گزشتہ تین برسوں کے دوران منظور کی جانے والی نئی بستیوں کی مجموعی تعداد 69 ہو گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیتسلایل اسموٹرچ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی کابینہ نے اسموٹرچ اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے پیش کی گئی تجویز منظور کر لی، جس کے تحت مغربی کنارے، جسے اسرائیل میں یہودیہ اور سامریہ کہا جاتا ہے، میں 19 نئی بستیوں کو باضابطہ حیثیت دی جائے گی۔ تاہم بیان میں فیصلے کی درست تاریخ نہیں بتائی گئی۔
Here Israel setters block and mock an ambulance trying to bring a Palestinian to the hospital
Almost a million Jewish settlers live in Palestine and they do everything they can to make live miserable
This is before October 7th pic.twitter.com/OchXTCglUK
— Jake Shields (@jakeshieldsajj) December 20, 2023
بیان میں اسموٹرچ نے کہا کہ زمین پر عملی اقدامات کے ذریعے فلسطینی ریاست کے قیام کو روکا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنی تاریخی وراثت کی زمین پر آبادکاری، تعمیر اور ترقی کا عمل جاری رکھے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے معاملے پر عالمی سطح پر پہلے ہی شدید تنقید پائی جاتی ہے۔ فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں اور اسے دو ریاستی حل کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں۔
