بھارت کی سابق ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے ذہنی صحت سے متعلق اپنی جدوجہد پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو روبوٹ سمجھنا ایک غلط تاثر ہے، کیونکہ وہ بھی حقیقی جذبات اور احساسات رکھنے والے انسان ہیں۔
ثانیہ مرزا نے گزشتہ ماہ اپنے پوڈکاسٹ میں ذہنی صحت کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے میدان میں کامیابی کے باوجود کھلاڑی شدید ذہنی دباؤ سے گزرتے ہیں، تاہم ماضی میں اس موضوع پر بات کرنا ایک طرح کا ممنوع سمجھا جاتا تھا۔
رجب بٹ اور ندیم مبارک کا جوئے کی پروموشن کیس کے حوالے سے اہم فیصلہ
انہوں نے کہا کہ ذہنی صحت پر بات کرنا بے حد ضروری ہے۔ میں نے خود اپنی زندگی میں اس پر کافی دیر سے بات کی، کیونکہ پہلے ہمیں اس کی مناسب آگاہی حاصل نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8 سے 10 برسوں میں ہی لوگ اس موضوع پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔ اس سے قبل معاشرے میں اس حوالے سے بدنامی اور شرمندگی کا احساس موجود تھا، لیکن اب خوش آئند طور پر یہ رویہ ختم ہو رہا ہے۔
بھارتی کھلاڑی جمیما روڈریگز کے سیمی فائنل میں اپنی گھبراہٹ اور بے چینی کے اعتراف پر بات کرتے ہوئے ثانیہ مرزا نے کہا کہ اس طرح کی کھلی باتیں دیگر کھلاڑیوں کے لیے حوصلے کا باعث بنتی ہیں
ثانیہ مرزا نے کہا کہ بطور کھلاڑی ہماری زندگی بظاہر ایک مشینی انداز میں گزرتی ہے، لیکن ہمیں واقعی روبوٹ سمجھ لیا جاتا ہے، جو درست نہیں، ہم حقیقی انسان ہیں اور ہر انسان اپنی مشکلات سے گزرتا ہے، ذہنی طور پر خود کو کمزور ظاہر کرنا آسان نہیں، مگر یہی قبولیت اور آگاہی کا راستہ ہے۔
خلیجی ممالک میں پاکستان مخالف بھارتی فلم پر مکمل پابندی
اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ڈپریشن کے مختلف ادوار سے گزری ہیں اور ٹینس کورٹ سے باہر کے مسائل نے بھی ان پر گہرا اثر ڈالا، تاہم انہوں نے ان مشکلات پر بعد میں کھل کر بات کی۔
واضح رہے کہ ثانیہ مرزا فروری 2023 میں پروفیشنل ٹینس سے ریٹائر ہوئی، جس کے بعد بطور اسپورٹس مینٹور، بزنس شخصیت اور میڈیا پرسنالٹی کے طور پر متحرک ہیں، اور اپنی ٹینس اکیڈمی کے ذریعے نوجوانوں کی تربیت فراہم کررہی ہیں۔
