ایسے دور میں جہاں عدالتوں میں زیادہ تر خاندانی جھگڑے وراثت یا جائیداد کے گرد گھومتے ہیں، سعودی عرب سے سامنے آنے والا ایک نایاب اور جذباتی مقدمہ ملک بھر سمیت بیرونِ ملک لوگوں کے دلوں کو چھو گیا۔
قاسم ریجن کے علاقے الاسیہ میں دو بھائی جج کے سامنے کھڑے تھے—نہ جائیداد کے لیے، نہ پیسوں کے لیے، بلکہ اس لیے کہ دونوں اپنی ضعیف العمر والدہ کی خدمت کی ذمہ داری خود لینا چاہتے تھے۔
بڑے بھائی حزام الغامدی نے اپنی ماں کی خدمت میں اپنی زندگی گزار دی۔ نہ شادی کی، نہ ملازمت اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر لمحہ اپنی والدہ کے قریب رہنا چاہتے ہیں، اور ان کی خدمت ہی ان کی خوشی اور مقصد ہے۔
چھوٹے بھائی کی بھی خواہش تھی کہ وہ اپنی ماں کی ذمہ داری اٹھائیں۔ ان کا خیال تھا کہ حزام بڑھاپے کو پہنچ چکے ہیں اور مسلسل خدمت کے بعد اب انہیں آرام کی ضرورت ہے۔ دونوں کی خواہش میں مقابلہ نہیں تھا، بلکہ محبت تھی۔
عدالت کا ماحول اس وقت جذباتی ہوگیا جب دونوں بھائی دولت یا عزت کے لیے نہیں، بلکہ اپنی ماں کی خدمت کا شرف حاصل کرنے کے لیے درخواست کر رہے تھے۔
جج نے فیصلہ نہ کر پاتے ہوئے ماں کو عدالت میں بلانے کا حکم دیا۔ وہ 100 سال سے زائد عمر کی تھیں، مگر جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس بیٹے کو منتخب کرتی ہیں، تو انہوں نے واضح جواب دیا:
سعودی شہزادے مشعل بن بدر کی والدہ انتقال کر گئیں
دونوں میرے لیے بائیں اور دائیں آنکھ کی طرح ہیں۔ان کے الفاظ نے عدالت کو حیرت میں ڈال دیا اور ماں اور بچوں کے گہرے رشتے کی عکاسی کی۔
جب ماں فیصلہ نہ کرسکیں اور دونوں بیٹے سچے دل سے خدمت کی خواہش رکھتے تھے، تو جج نے عملی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔
والدہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری چھوٹے بھائی کو سونپی گئی کیونکہ:
وہ شادی شدہ تھے اور ان کے بیٹے اور بیٹیاں مدد کر سکتے تھے۔ والدہ کی خدمت کے لیے ان میں جسمانی صلاحیت زیادہ تھی۔
یہ فیصلہ حزام کی قربانی کو کم نہیں کرتا تھا بلکہ صرف بوڑھی ماں کی بہتر دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے تھا۔
فیصلہ سن کر حزام رونے لگے نہ غرور کی وجہ سے، نہ غصے سے، بلکہ اس دکھ سے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ عدالت کا عملہ بھی ان کی سچی محبت اور غم سے متاثر ہوا۔
باوجود اس کے، حزام اپنی والدہ کے قریب رہے، یہاں تک کہ وہ ان کی گود میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
یہ واقعہ بہت عرصہ پہلے پیش آیا تھا، مگر رواں ہفتے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر دوبارہ وائرل ہوا اور لوگوں نے اسے بے مثال محبت اور قربانی کی کہانی قرار دیا۔
