آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے گاڈ فادر کہلائے جانے والے جیفری ہنٹن ( Geoffery Hinton) نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی مستقبل قریب میں دنیا بھر میں بے شمار ملازمتوں کے خاتمے کا باعث بن سکتی ہے۔
جیفری ہنٹن نے کہا کہ خودکاری کی موجودہ رفتار کے سبب کئی شعبوں میں انسانی محنت کی ضرورت کم ہو جائے گی، خاص طور پر وہ ملازمتیں جو معمولی ذہنی یا دفتری کام کرتی ہیں، جیسے کال سینٹر، کسٹمر سروس، انتظامی امور اور دیگر عام دفاتر۔
ایچ پی کی نئی اے آئی حکمت عملی، ہزاروں ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بڑے ٹیکنالوجی ادارے صرف منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کو اپنائیں تو انسانی وسائل کے تحفظ کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے دور میں صرف محدود افراد کو ملازمتیں میسر ہوں گی، جبکہ بڑی تعداد میں افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ ہنٹن نے حکومتوں اور کاروباری اداروں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو اس انداز سے منظم کریں کہ انسانی بہبود اور سماجی انصاف کو بھی تحفظ حاصل ہو۔
میٹا کا اے آئی مہارتوں کی بنیاد پر ملازمین کی گریڈنگ کرنے کا اعلان
ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے پہلے ہی کئی کمپنیوں میں عملے کی تعداد کم کی جا رہی ہے، اور یہ رجحان مستقبل میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ہنٹن کی یہ پیش گوئی ایک ایسے انقلاب کی نشاندہی کرتی ہے جس میں انسانی محنت کی نوعیت بدل جائے گی اور سماجی و اقتصادی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے
