الفابیٹ انکارپوریٹڈ کے چیف ایگزیکٹوآفیسر(سی ای او) سندر پچائی نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال واضح طور پر سرمایہ کاری کی زیادتی کی سمت بڑھ رہی ہے، اگر اے آئی کا معاشی ببل پھٹ گیا تو ہم سمیت کوئی بھی کمپنی محفوظ نہیں رہے گی۔
پچائی نے موجودہ دور کا موازنہ انٹرنیٹ کے ابتدائی برسوں سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے ڈاٹ کام دور میں غیر پائیدار سرمایہ کاری کے باوجود بنیادی ٹیکنالوجی نے خود کو انقلابی ثابت کیا، ویسے ہی اے آئی میں بھی حقیقی جدت اور غیر حقیقی توقعات اکٹھے موجود ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے ٹولز اپنی ہی تخلیقات کی شناخت میں ناکام
انہوں نے کہا کہ آج کوئی انٹرنیٹ کی اہمیت پر سوال نہیں اٹھاتا، اور وہ سمجھتے ہیں کہ اے آئی بھی بالآخر اسی طرح اپنی افادیت ثابت کرے گا۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورتحال میں کچھ چیزیں منطقی ہیں اور کچھ غیر منطقی جوش کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان کے مطابق موجودہ اے آئی بوم غیر معمولی ضرور ہے، لیکن اس میں واضح طور پر وہی قیاسی رویہ شامل ہے جو ڈاٹ کام دور میں دیکھا گیا تھا۔ پچائی نے بڑھتی ہوئی کمپنی ویلیوایشنز، اے آئی چِپس اور انفراسٹرکچر میں بھاری سرمایہ کاری کو ممکنہ خطرہ قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق اے آئی پر مرکوز کمپنیوں کی مالیت کھربوں ڈالرز تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حقیقی آمدنی اور عملی نتائج اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں۔
دبئی میں جدید ٹیکنالوجی اور روبوٹکس والا دنیا کا سب سے شاندار اسکول
الفابیٹ کی اپنی ویلیو بھی اس رجحان سے متاثر ہوئی ہے اور اس کے شیئرز رواں سال تقریباً 46 فیصد بڑھ چکے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اس کی اے آئی توسیع پر بڑے پیمانے پر اعتماد کر رہے ہیں۔
وسیع خدشات کے باوجود پچائی نے اعتراف کیا کہ بڑے پیمانے پر اے آئی ماڈلز کی ٹریننگ اور ڈیٹا سینٹرز کی توسیع توانائی کی کھپت میں نمایاں اضافہ کررہی ہے، جس سے ماحولیاتی اہداف متاثر ہو رہے ہیں اور بجلی کے وسائل پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا گوگل اے آئی ببل پھٹنے کی صورتحال کا مقابلہ کر پائے گا، تو پچائی نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں کوئی بھی کمپنی مکمل طور پر محفوظ نہیں، حتیٰ کہ گوگل بھی نہیں۔
اسپین کا میٹا کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ
ماہرین کے مطابق پچائی کا انتباہ ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے اہم پیغام رکھتا ہے کہ سرمایہ کاری اور حقیقی نتائج کے درمیان بڑھتا ہوا فرق مستقبل میں بڑے جھٹکوں کا باعث بن سکتا ہے۔ متعدد ادارے جو تیزی سے اے آئی کو اپنے نظام کا حصہ بنا رہے ہیں، انہیں ممکنہ طور پر اپنی حکمت عملی، بجٹ اور نتائج کے تخمینوں کا ازسرِنو جائزہ لینا پڑے گا۔
