اسلام آباد: الیکشن کمیشن پاکستان نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی مبینہ دھمکی پر نوٹس جاری کر دیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں اہم ہوا۔ جس میں اراکین، سیکرٹری، اسپیشل سیکرٹری، لا ونگ سمیت دیگر حکام نے شرکت کی۔ الیکشن کمیشن نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بیان پر نوٹس جاری کر دیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں ضلعی انتظامیہ، پولیس اور الیکشن عملے کو دھمکایا۔ جبکہ جلسے میں موجود عوام اور عمومی طور پر لوگوں کو اکسانے پر نوٹس لیا گیا۔
لیکشن کمیشن نے سہیل آفریدی کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ جلسے میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ ایک مفرور مجرم بھی کھڑا تھا۔ اور وزیر اعلیٰ کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے ضمنی الیکشن کا پرامن انعقاد مشکل ہو گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور انتخابی ڈیوٹی پر مامور عملہ اور ووٹروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا۔
الیکشن کمیشن نے صوبائی الیکشن کمشنر کو چیف سیکرٹری اور آئی جی کے ساتھ اجلاس بلانے کا حکم بھی دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور پولیس کا سوشل میڈیا پر چیٹ جی پی ٹی کا بھونڈا استعمال، ادارے کی جگ ہنسائی
واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مبینہ دھاندلی پر سرکاری ملازمین کو دھمکی دی تھی۔
