متحدہ عرب امارات نے عندیہ دیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے تشکیل دی جانے والی بین الاقوامی امن فورس میں شامل نہیں ہوگا، کیونکہ اس فورس کے خدوخال اور دائرہ کار کے حوالے سے اب تک کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا ہے۔
ابوظہبی اسٹریٹجک ڈبیٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے اماراتی صدارتی مشیر ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ “یو اے ای کو تاحال اس امن فورس کا کوئی واضح فریم ورک نظر نہیں آ رہا، اور ایسی غیر واضح صورتحال میں امارات کے شامل ہونے کے امکانات کم ہیں۔”
ذرائع کے مطابق امریکہ کی زیرِ قیادت اس مجوزہ فورس میں مصر، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کی ممکنہ شمولیت پر غور کیا جا رہا تھا۔
Turkey will not take part in a planned multinational force for Gaza, Israeli spokesperson Shosh Bedrosian says.#Israel #Gaza #Turkey pic.twitter.com/4A0eeXHxMd
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) November 9, 2025
گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ یہ فورس “بہت جلد” غزہ میں تعینات ہو جائے گی، جہاں دو سال کی طویل لڑائی کے بعد ایک کمزور جنگ بندی برقرار ہے۔
واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات تیل سے مالا مال ان چند عرب ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے 2020ء میں ابراہام معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
