گزشتہ روز دبئی میں آئی سی سی کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین اور ایسشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی بھی شریک تھے۔
اجلاس سے قبل بھارتی میڈیا چیخ رہا تھا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) ایشیا کپ ٹرافی کا معاملہ اس فورم پر اٹھائے گا اور محسن نقوی کو ٹرافی ہینڈ اوور کرنے پر پابند کریگا۔
تاہم ذرائع کے مطابق محسن نقوی بھارت کو جواب دینے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھے اور اپنا پرانا مؤقف دہرانے کا ارادہ رکھتے تھے کہ اگر بھارت کو ٹرافی چاہیئے تو ان کے دفتر سے آ کر وصول کرنا ہو گی۔
اس سے قبل بھی بھارتی بورڈ کی جانب سے ٹرافی دیے جانے کی درخواست پر محسن نقوی نے تحریری طور پر دو ٹوک جواب دیا تھا کہ اگر بھارت نے ٹرافی لینی ہے تو ہم 10 نومبر کو دبئی یمیں ایک تقریب کا اہتمام کرتے ہیں، جس میں بھارتی بورڈ جیتنے والی ٹیم کے کسی رکن کو لے آتے اور ٹرافی لے جائے۔
Team India celebrates Asia Cup win without the trophy pic.twitter.com/w9ZmM47FI2
— Sarang Bhalerao (@bhaleraosarang) September 28, 2025
تاہم بھارتی بورڈ کا جوش اس بار بھی پھیکا پڑ گیا کیونکہ ای سی سی کے اجلاس میں ایشیا کپ کی ٹرافی کا معاملہ سرکاری طور پر زیرِ بحث آیا ہی نہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارتی بورڈ خود بھی اس معاملے پر کوئی بات نہیں کر سکا۔
البتہ ذرائع نے اتنا ضرور کہا ہے کہ اجلاس کے بعد کچھ بورڈ ممبران نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹرافی کے مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ اس موقع پر یہ رائے بھی سامنے آئی کہ دونوں ممالک کو تحمل اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ ختم کرنا چاہیے۔
ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے بھی اجلاس کے بعد کہا کہ ایشیا کپ کی ٹرافی کا معاملہ جلد از جلد حل ہونا چاہیے تاکہ کرکٹ برادری میں شفافیت اور اعتماد قائم رہے۔
