ایپل کمپنی نے اپنے آئی فون کے ڈیجیٹل اسسٹنٹ سری (Siri) کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بنیاد پر ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی نے کہا ہے کہ مستقبل میں سری کو نہ صرف زیادہ سمجھدار اور مؤثر بنایا جائے گا بلکہ اسے جدید اے آئی ماڈلز جیسے چیٹ جی پی ٹی اور گوگل جیمنائی کے ساتھ ضم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ونڈوز سرور کی سیکیورٹی خامی سے 50 سے زائد ادارے متاثر
ایپل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹِم کُک کے مطابق کمپنی آئی فون سری کے نئے اور بہتر ورژن پر تیزی سے کام کر رہی ہے جو 2026 میں متعارف کرایا جائے گا، ایپل مصنوعی ذہانت کے میدان میں اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے، تاکہ صارفین کو ایک زیادہ ذہین، ذاتی نوعیت کا اور محفوظ ڈیجیٹل تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
ٹِم کُک کے مطابق نیا سری موجودہ اسسٹنٹ سے کہیں زیادہ جدید ہوگا، یہ نہ صرف صارف کی آواز پہچانے گا بلکہ اس کے اندازِ گفتگو، معمولات اور روزمرہ عادات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھے گا۔
گوگل پلے اسٹور میں نیا فیچر، اے آئی سے ایپ جائزوں کا فوری خلاصہ دستیاب
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں سری ای میلز، کیلنڈر، میسجز اور دیگر ایپس کے درمیان خودکار طور پر رابطہ قائم کر کے پیچیدہ کام باآسانی مکمل کرے گا، مثال کے طور پر، صارف صرف یہ کہے گا کہ “میرا آج کا شیڈول ای میل سے نکال کر کیلنڈر میں شامل کر دو” اور سری یہ کام فوراً انجام دے گا۔
ایپل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کمپنی اپنی نئی ایپل انٹیلیجنس پالیسی کے تحت مختلف عالمی اے آئی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے، اس مقصد کے لیے ایپل نے اپنی اے آئی ٹیم کو وسعت دینے اور تحقیق و ترقی کے منصوبوں پر بھی کام شروع کر دیا ہے۔
ٹیک ماہرین کے مطابق اگر ایپل واقعی چیٹ جی پی ٹی اور جیمنی جیسے ماڈلز کو سری کے ساتھ مربوط کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ اسمارٹ فون انڈسٹری کے لیے ایک بڑا سنگ میل ثابت ہوگا، اس سے آئی فون نہ صرف ایک فون بلکہ ایک ذاتی ڈیجیٹل ساتھی کے طور پر ابھرے گا۔
