اسرائیلی افواج نے غزہ پٹی پر مسلسل تیسرے روز فضائی اور زمینی حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم دو فلسطینی شہید ہو گئے۔
فلسطینی خبر رساں ادارے وفا (WAFA) کے مطابق ایک شخص شیلنگ میں جبکہ دوسرا اسرائیلی فائرنگ سے جاں بحق ہوا۔
رپورٹ کے مطابق ایک تیسرا فلسطینی بھی پہلے کیے گئے اسرائیلی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد دم توڑ گیا۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے تاحال ان حملوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
یہ تازہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکا کی ثالثی میں ہونے والا جنگ بندی معاہدہ پہلے ہی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ معاہدہ تقریباً 3 ہفتے قبل طے پایا تھا لیکن حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی انخلا کے وقت جیسے اہم امور ابھی تک حل طلب ہیں۔
منگل اور بدھ کے روز ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی تھی، جس میں 104 فلسطینی شہید ہوئے۔
جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار
اسرائیل نے بدھ کے روز کہا کہ وہ جنگ بندی کے معاہدے پر کاربند ہے، تاہم حماس پر الزام لگایا کہ وہ یرغمالیوں کی لاشیں حوالے کرنے میں تاخیر کر رہی ہے۔
جمعرات کو حماس نے 2 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کیں۔ معاہدے کے تحت حماس نے تمام زندہ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے تقریباً 2 ہزار فلسطینی قیدیوں کو اسرائیل سے رہائی دلائی تھی۔
مزید برآں، حماس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ 28 جاں بحق یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرے گی، جن میں سے 17 لاشیں اب تک حوالے کی جا چکی ہیں۔ حماس کے مطابق باقی لاشوں کی تلاش میں وقت درکار ہے۔
دو سالہ جنگ میں 68 ہزار سے زائد فلسطینی شہید
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق 2 سال سے جاری جنگ میں اب تک 68 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ پورا علاقہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
یہ جنگ اکتوبر 2023 میں اس وقت شروع ہوئی تھی جب حماس کے حملوں میں جنوبی اسرائیل میں 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا۔
