سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف اور سفیر شہزادہ ترکی الفیصل نے خلیجی ریاستوں سے اپنی سلامتی سے متعلق پالیسی پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ڈین آف ایمبیسڈرز گالا ڈنر سے خطاب میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو خطرہ ہے اسلئے وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کریں۔
پاکستان، سعودی عرب سمیت 8 اسلامی ممالک کا ٹرمپ منصوبے کا خیرمقدم
ان کا مزید کہنا تھا کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کے رہنماؤں پر اسرائیلی حملہ جارحیت اور غداری ہے۔ اگر فلسطینی علاقوں پر قبضہ نہ ہو تو مزاحمت بھی نہیں ہو گی۔
انہوں نے اسرائیل کو ایک مسترد شدہ ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی سطح پر کسی قانون یا قاعدے کی پرواہ نہیں کرتا۔ امریکا منصف ثالث کی بجائے اسرائیل کا پکا اتحادی بن چکا ہے ،امریکا خطے میں بحران کا ذمہ دار ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے 9 ستمبر کو قطری دارالحکومت دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا تھا ، البتہ اب اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو نے اس حملے پر قطر سے معافی مانگ لی ہے۔
