اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو(natun yahoo) کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شدید احتجاج کیا گیا،تقریر کے دوران اراکین نے واک آؤٹ کردیا۔
نیتن یاہو کےخطاب کے دوران جنرل اسمبلی کا ہال خالی ہو گیا،اسرائیلی وزیراعظم خطاب کےدوران خالی ہال دیکھ کر پریشان ہو گئے،پاکستان سمیت مسلم ممالک نے بائیکاٹ کیا۔
وقار یونس نے صائم ایوب کو قومی ٹیم سے ڈراپ کرنےکا مشورہ دیدیا
اسرائیلی وزیراعظم نے خطاب کےدوران حماس، حزب اللہ ،ایران اور حوثیوں کو قتل کی کھلی دھمکیاں دیں۔نیتن یاہو نے دھمکی دی کہ حماس سے کہتا ہوں ہتھیار ڈال دو، تمام یرغمالی رہا کرو گے تو زندہ رہو گے ورنہ مار دیئے جاؤ گے۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران نے اسرائیل کو تباہ کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں کا پروگرام تیار کیا تھا ہم نے ان کے ملٹری کمانڈرز اور جوہری سائنسدانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔
نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے میں اسرائیل کی مدد کی۔
سعودی عرب سے معاہدہ قطر پر حملے کا ردعمل نہیں،وزیردفاع
اسرائیلی وزیراعظم نے مطالبہ کیا کہ ایران میں یورینیئم کے ذخائر کو ختم ہونا چاہیے۔ ہم ایران کو جوہری توانائی کسی طور دوبارہ حاصل نہیں کرنے دیں گے۔
نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ سب کے سامنے ہماری مذمت کرتے ہیں وہ نجی ملاقاتوں میں ہمارا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
