گلوکار حسن رحیم کی اگست میں ہونے والی شادی صرف ایک ذاتی تقریب نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان بھر میں سوشل میڈیا پر ایک وائرل ثقافتی لمحہ بن گئی، جس میں گلگت بلتستان کی خوبصورت روایات کی بھرپور جھلک نظر آئی۔
بی بی سی ایشین نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے حسن رحیم نے مزاحیہ انداز میں کہا میں نے اپنے ڈانس میں تھوڑی سی شادی شامل کر دی ہے، ہماری شادی نے پورے پاکستان کو گلگت کا کرَش کورس کرا دیا۔
شادی کی تمنا نہیں لیکن باپ بننا چاہتا ہوں، سلمان خان
حسن رحیم نے اپنی والدہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے موقع پر ان کی والدہ نے زور دیا کہ وہ اپنا شوقہ جو ایک خاندانی ورثہ ہے اور گلگت کی روایتی ٹوپی ضرور پہنیں۔ گلوکار نے کہا کہ یہ روایتی لباس میرے لیے ثقافتی فخر کی علامت بن گیا، اور میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرا یہ انداز اتنا پسند کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شادی ایک ڈانس میراتھون میں بھی بدل گئی، ہر پانچ منٹ بعد میں ڈانس کے لیے کھڑا ہو جاتا اور سب کو دکھاتا کہ یہ کیسے ہوتا ہے۔ ان کا روایتی رقص آن لائن خوب ٹرینڈ ہوا، انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر موسیقی نہ چلی تو ہم شادیوں کے ڈانس کوریوگرافر بن جائیں گے۔
دلجیت دوسانجھ نے ہانیہ عامر کے سردار جی 3 میں شامل ہونے کے تنازعے پر خاموشی توڑ دی
حسن راحیم نے بتایا کہ والدہ نے شادی میں موبائل فونز پر پابندی لگانے کا بھی مشورہ دیا تھاشروع میں مجھے ہچکچاہٹ ضرور تھی لیکن میں نے فیصلہ کیا کہ اس خوشگوار لمحے کو پوری طرح جینا ہے، میں اتنا خوش تھا کہ ان چیزوں پر دھیان نہیں دیا جن پر میرا کنٹرول نہیں تھا۔
مزاحیہ انداز میں انہوں نے کہا کہ ان کے کزن چھ دن کے لیے انفلوئنسرز بن گئے اور ہر لمحہ فلماتے اور پوسٹ کرتے رہے، جو سب وائرل ہو گئے۔ اگر میں ان کے فون لے لیتا تو وہ ناراض ہو جاتے۔
حسن رحیم کی شادی نے صرف شہرت نہیں کمائی بلکہ گلگت بلتستان کی ثقافت کو پورے ملک میں روشنی میں لایا۔
