ایران نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے ۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب میں معاہدہ مسلم ممالک کے درمیان علاقائی سیکیورٹی کے نظام کا آغاز ہے،مسلم ممالک میں سلامتی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔
استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کیے گئے حملے سفارتکاری سے سنگین غداری تھے، دشمنوں کی ایرانی عوام میں تفرقہ ڈالنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو مجرم ہے ،ایران نے کبھی ایٹم بم بنانے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی آئندہ کرے گا،ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
پاک سعودی معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اسٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط ہو گئے۔سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” (SMDA) پر دستخط کئے۔
ایشانت شرما پاکستان کی مہمان نوازی کے معترف
معاہدہ دونوں ممالک کی اپنی سلامتی کو بڑھانے اور خطے اور دنیا میں سلامتی اور امن کے حصول کے لیے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔
معاہدے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
پیٹرول اورڈیزل کی فی لٹر اصل قیمت کتنی اورٹیکس کتنا؟
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کی 8 دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری ہے، دونوں ممالک میں مشترکہ اسٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون کے تناظر میں معاہدہ ہوا۔
