پاکستان کرکٹ ٹیم (pak cricket team)کی حالیہ ناکامیوں نے جہاں شائقین کو مایوس کیا ہے وہیں یہ ناکامیاں بین الاقوامی سطح پر بھی بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ انگلینڈ کے تجربہ کار کرکٹرز معین علی اور عادل رشید نے اپنی مقبول پوڈکاسٹ ’بیئرڈ بِفور وکٹ‘ کی تازہ قسط میں قومی ٹیم کی صورتحال پر کھل کر رائے دی ہے۔
معین علی نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان ایک عرصے تک دنیا کی سب سے خطرناک ٹیموں میں شمار ہوتا تھا، خاص طور پر وائٹ بال کرکٹ میں اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی، لیکن بار بار کی تبدیلیوں نے اس تسلسل کو توڑ دیا ہے۔ ان کے مطابق کوچنگ اسٹاف کی بار بار تبدیلی سے کھلاڑیوں کو وہ تسلسل نہیں مل پاتا جو کارکردگی کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
امریکہ میں فرانسیسی صدر کی گاڑی کو روک لیا گیا
انگلش آل راؤنڈر نے کہا: پاکستان ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ کوچز آتے ہیں لیکن طویل مدت تک کوئی سیٹ اپ چلتا نہیں۔ اس عدم استحکام نے ٹیم کو متاثر کیا ہے۔
تاہم معین علی نے پاکستان ٹیم کی صلاحیتوں کو بھی سراہا اور کہا کہ اس کے باوجود پاکستانی ٹیم بڑی ٹیموں کے خلاف ٹورنامنٹس میں فائنلز تک رسائی حاصل کرتی رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کرکٹ میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
عادل رشید نے بھی اپنے ساتھی کی رائے کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیم میں بے پناہ صلاحیت ہے مگر جب تک پالیسی اور قیادت میں تسلسل نہیں آئے گا، نتائج ہمیشہ متاثر رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کی سمت کیا ہے، مگر بار بار کی تبدیلیوں نے ٹیم کی شناخت دھندلا دی ہے۔
آئی فون 17 سیریز کے مخصوص ماڈلز خراشوں کا شکار ہونے کی شکایات
پاکستان کرکٹ ٹیم آئندہ مہینوں میں مصروف بین الاقوامی سیزن کھیلنے جا رہی ہے اور ان دونوں انگلش کرکٹرز کی رائے ایک بار پھر یاد دہانی کراتی ہے کہ کامیابی کے لیے ٹیلنٹ کے ساتھ ساتھ مضبوط بنیادیں اور تسلسل بھی ناگزیر ہیں۔
View this post on Instagram
