ٹوئٹراور ٹیک انڈسٹری کے بانی ایلون مسک نے امریکی انتظامیہ کے ایچ ون اور ایچ ون بی ویزا فیس بڑھانے کے اقدام کی کھل کرمخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کے خلاف ایسی جنگ لڑیں گے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
مسک نے زوردے کر کہا کہ ٹیسلا، اسپیس ایکس اوردیگر ٹیک کمپنیوں کی ترقی میں ایچ ون بی ویزہ ہولڈرزکا بنیادی کردار ہے اورانہی مہارتوں نے امریکہ کو عالمی سطح پرطاقتوربنایا۔
انہوں نے کہا کہ ایچ ون بی پروگرام میں شامل افراد نے نہ صرف امریکی بزنس کو تکنیکی قوت دی بلکہ سینکڑوں کمپنیوں میں کام کر کے اقتصادی ترقی میں نمایاں حصہ ڈالا۔
مسک کی سخت گفتار نے ٹیک سیکٹر میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے، جہاں بڑی کمپنیاں ویزا فیس میں اضافے کے ممکنہ مالی بوجھ اور ہنرِ انسانی کی دستِرس میں رکاوٹ کے خدشات سے دوچار ہیں۔
ٹرمپ کا بھارت کو بڑا جھٹکا، ایچ ون بی ویزا پر سالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس عائد
مسک کے بیان نے واشنگٹن میں فیصلہ سازوں اورسلیکون ویلی میں لیڈرزکے درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے، آیا ویزا پالیسی کو سخت کرنا ملکی مفاد میں ہے یا امریکی ٹیکنالوجی کی مسابقت کو کمزور کرے گا۔
