سائبر سکیورٹی ماہر لوکس مولیفے کے مطابق ملک بھر میں ایسے فراڈ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں جن میں مجرم دوست، رشتہ داریا ساتھی کا روپ دھارکرلوگوں سے رقم یا حساس معلومات ہتھیالیتے ہیں۔
مولیفے نے بتایا کہ سب سے عام اور خطرناک طریقہ سم سوآپ (SIM Swap) ہے، جس میں مجرم دھوکے سے متاثرہ شخص کا نمبر اپنے قبضے میں کرلیتے ہیں یہ عموماً فشنگ اٹیک کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ایک بارنمبر قابو میں آنے کے بعد نہ صرف واٹس ایپ بلکہ بینک اکاؤنٹس اوردیگر ڈیجیٹل شناخت بھی ہائی جیک کی جاسکتی ہے۔
فراڈ کا طریقہ کاریہ ہے کہ مجرم متاثرہ شخص کے کسی جاننے والے کا نمبر یا پروفائل کلون کرکے رابطہ کرتے ہیں، پھر فوری ضرورت یا ہنگامی صورتحال کا بہانہ بنا کر او ٹی پی یا مالی تعاون مانگتے ہیں۔
ماہرین نے خبردارکیا ہے کہ اگرکوئی نیا نمبرآپ سے رابطہ کرے، او ٹی پی مانگے یا ویڈیو/آواز کال کرنے سے انکارکرے تو محتاط رہیں۔
مولیفے نے کہا کہ جب سم سوآپ کے ذریعے نمبرچھن جاتا ہے تو متاثرہ کو فوراً اپنے نیٹ ورک سروس فراہم کنندہ اور بینک سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ نقصان کو روکا جاسکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ٹو فیکٹر ویری فیکیشن کو فعال کرنا ہے، او ٹی پی یا حساس معلومات کبھی بھی واٹس ایپ پرشیئر نہ کریں، چاہے بھیجنے والا قریبی دوست یا عزیز ہی کیوں نہ لگے۔
یورپ بھر کے ایئرپورٹس پربڑا سائبر حملہ، فضائی آپریشن مفلوج
سائبرسکیورٹی ماہرین نے عوام پر زور دیا ہے کہ ایسے ہتھکنڈوں سے آگاہ رہیں کیونکہ مجرم عموماً “اعتماد اور ہنگامی صورتحال” کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
