پاکستان سے میچ ہو سکتا ہے تو سکھ یاتری پاکستان کیوں نہیں جا سکتے۔
بھارت کی جانب سے یاتریوں کو پاکستان جانے سے روکنے پر سکھوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارت کی وزارت داخلہ نے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سکھ یاتریوں کو پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔
نومبر میں سکھ یاتریوں نے گرو نانک کے یوم پیدائش پر پاکستان جانا ہے۔ ہر سال سکھ گرونانگ کے یوم پیدائش پر پاکستان آتے ہیں لیکن اس بار انہیں روک دیا گیا ہے۔
بھارتی پنجاب میں اپوزیشن جماعتوں اور سکھ مذہبی رہنماؤں نے اس ایڈوائزری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے میچ ہوسکتا ہے تو سکھ یاتری پاکستان کیوں نہیں جاسکتے ہیں۔
پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کو مذہبی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی حق حاصل نہیں، اگر پاک بھارت کرکٹ میچ ہوسکتے ہیں تو سکھ یاتریوں کو پاکستان جانے سے کیوں روکا جا رہا ہے۔
پی سی بی کے سخت موقف پر پاکستان کے سامنے اہم تجویز رکھ دی گئی
لوک سبھا کے سابق رکن سکھبیر سنگھ بادل نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے انہوں نے کہا کہ کرتارپور تک رسائی نہ دینے سے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے، انہوں نے کرتار پور راہداری کھولنے کا مطالبہ بھی کیا۔
