پشاور، خیبرپختونخوا اسمبلی میں جعلی تعلیمی اسناد کی بنیاد پرملازمین کی بھرتیوں کا انکشاف ہوا ہے جس کے بعد اسمبلی سیکرٹریٹ نے سات ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ انکشاف اس وقت ہوا جب اسمبلی سیکرٹریٹ نے ملازمین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل شروع کیا۔
بیرسٹرگوہر نے بانی کی رہائی کومذاکرات سے الگ کر دیا، مشیرقانون کا بڑا دعویٰ
تصدیق کے دوران پتہ چلا کہ مختلف ادوارمیں درجن سے زائد افراد نے جعلی ڈگریوں کی بنیاد پراسمبلی میں نوکری حاصل کی۔
اسمبلی ذرائع کا کہنا ہے کہ جن ملازمین کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں، ان میں ایک گریڈ 19 کا ریٹائرڈ اہلکار بھی شامل ہے، جب کہ دیگر میں گریڈ 18 تک کے حاضر سروس افسران موجود ہیں۔ ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری ہے۔
اے ٹی سی لاہور نے علیمہ خان کے بیٹے شاہ ریز خان کی ضمانت منظورکرلی
علاوہ ازیں، ان ملازمین کو بھی نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں جنہوں نے تاحال اپنی تعلیمی اسناد اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع نہیں کرائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام اسناد کی جانچ پڑتال کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اسمبلی سیکرٹریٹ نے اس اقدام کو شفافیت کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی ملازم کو جعلی اسناد پر عہدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
